محترم السلام علیکم!
میں آپ کا شکر گزار ہوں گا ،آپ مندرجہ ذیل مسئلہ پرمیری رہنمائی فرمائیں کہ بینک سے سود کا لین دین نا جائز ہے، جس کی بنا پر ہم بینک میں اپنی رقوم کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھتے ہیں ، جس سے ہم ذہنی طور پر مطمئن ہیں کہ ہم سود کے لین دین میں ملوث نہیں ہیں ، ابھی حال ہی میں کسی دوست نے یہ مشورہ دیا ہے کہ اس طرح گو کہ آپ اپنی بینک میں جمع رقوم پر سود نہیں لیتے، لیکن اس کا فائدہ صرف اور صرف بینک کو ہوتا ہے ،اور میرے اس دوست کے مطابق بینک کو یہ فائدہ پہنچانا بھی مناسب نہیں ہے، اور میرے اس دوست کی رائے میں یہ سود کی رقم بینک سے وصول کر کے مستحق افراد یا اداروں کی امداد کر دی جائے، جس سے بہت سے ضرورت مند حضرات کا فائدہ ہوگا ،اور آپ اس رقم کو اپنے اوپر نہ خرچ کر کے کسی گناہ کے مرتکب بھی نہیں ہونگے ،اور اگر اس کارِ خیر کا آپ کو کوئی ثواب نہ بھی ہو تو کم از کم آپ کسی کی ضرورت پوری کر کے اس کی دعا حاصل کر سکیں گے ، براہِ مہربانی اس سلسلے میں میری راہنمائی فرمائیں کہ کیا میں بینک سے سود کا منافع حاصل کر کے اس رقم کو ضرورت مندوں کی امداد میں خرچ کر سکتا ہوں ؟اور مزید یہ کہ یہ رقم کس مد میں خرچ کی جا سکتی ہے اور کس میں نہیں ؟مزید یہ کہ کیا وہ لوگ جو زکوۃ کے مستحق نہیں ، لیکن حالات کی وجہ سے امداد کے مستحق ہیں ، کیا اس رقم سے ان کی امداد کی جا سکتی ہے؟ براہِ مہربانی دین کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
سائل کا سود سے بچنے کے لئے بامرِ مجبوری بینک کے کرنٹ اکاونٹ میں رقم رکھوانا شرعاً جائز اور درست ہے، بلاوجہ محض مذکور دوست کی باتوں میں آکر پریشانی میں مبتلا ہونے سے احتراز چاہیئے۔ جبکہ ضرورت مندوں کو حرام رقم دینا ضروری بھی نہیں، بلکہ صاف اور حلال رقم بھی بلا شبہ دے سکتے ہیں۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0