کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و شرعِ متین اس سلسلہ کے بارے میں کہ میں نے گیارہ لاکھ کی گاڑی خریدی، جس میں سے دو لاکھ نقد دے دیے ، باقی نو لاکھ میں سے دو لاکھ کی چالیس قسطیں پانچ ہزار ماہوار کے حساب سے اور سات لاکھ کی ستر قسطیں دس ہزار ماہوار کے حساب سے طے ہوئیں ، ۱۲ ماہ تک میں پندرہ ہزار روپے کے حساب سے قسطیں ادا کرتا رہا،اس کے بعد مجھے کچھ مالی وسعت حاصل ہوئی ،تو میں نے دولاکھ میں سے ایک لاکھ یکمشت ادا کر دیا، میرے اس طرزِ عمل سے بائع نے مجھے دو لاکھ کی بقیہ 8 قسطیں یعنی چالیس ہزار روپے چھوڑ دیا ، باقی سات لاکھ کی میں ابھی تک ماہوار قسط ادا کر رہا ہوں ، سوال یہ ہے کہ کیا بائع کا اس طرح کرنا جائز ہے؟ یا سود میں داخل ہے۔براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیکر رہنمائی فرمائیں۔
اس طرح رقم کا چھوڑنا اور کم کر دینا اگر مشروط نہ ہو، بلکہ بائع اپنی مرضی اور خوشی اور بلا کسی قسم کی شرط وغیرہ کے چھوڑ دے ،تو اس کا یہ عمل بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
وفي الفتاوى الهندية: حط بعض الثمن صحيح ويلتحق بأصل العقد عندنا كالزيادة اھ (3/ 173)۔
وفي شرح المجلة: حط البائع مقدارا من الثمن المسمى بعد العقد صحيح و معتبر اھ (۲/ ۱۸۲)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1