کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گاڑیوں کی خرید وفروخت کا مروجہ طریقہ از روئے شریعت جائز ہےیا ناجائز جس کی دو صورتیں ہیں:
۱:ایک شخص شوروم جا کر گاڑی کی صرف قیمت لگا کر گاڑی وصول نہیں کرتا ،اور آگے دوسرے شخص کو فروخت کر دیتا ہے یعنی نقد رقم لیکر ماہانہ قسط لیتا ہے، گاڑی کی قیمت ایک لاکھ لگاتا ہے، اور آگے بندے کو ایک پچاس ہزار روپے میں دیتا ہے، بلاکسی نقصان کہ دو تین سال میں رقم ختم ہو جاتی ہے۔
۲: دوسری صورت یہ ہے کہ گاڑی خرید کے آگے دوسرے بندے کو فروخت کرتا ہے ،اور گاڑی کی ملکیت بندے کے حوالے کر دیتا ہے ،اور گاڑی کی قیمت دوگنا یا ڈیڑھ گنا بڑھاتا ہے ،گاڑی خریدار کے پاس ہوتی ہے، طے شدہ رقم بطور قسط ادا کرتا ہے گاڑی اگر ٹکرا جائے ،یا جل جائے ،تو پھر بھی رقم مکمل ادا کرنا پڑیگی،ان دو صورتوں کے جواز وعدمِ جواز کے بارے میں شرع اسلامی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
: اس صورت میں گاڑی پر قبضہ سے پہلے آگے فروخت کرنا درست نہیں۔
۲: اگر گاڑی خرید کر اس پر قبضہ کرنے کے بعد کسی دوسرے شخص کو ادھار قسطوں میں فروخت کر دے، اور اسی مجلس میں ایڈوانس دیجانے والی رقم اور بقیہ تمام قسطیں اور ہرقسط کی رقم طے ہو ،اور کسی قسط کے مؤخر ہونے پر کوئی جرمانہ بھی نہ کیا جائے،تو اس صورت میں گاڑی یا کسی دوسری چیز کو نقد کے مقابلے میں ادھار پر مہنگا فروخت کرنا شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔
کما فی مشكاة المصابيح: وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل سلف وبيع ولا شرطان في بيع ولا ربح ما لم يضمن ولا بيع ما ليس عندك» . [ص:868] رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وقال الترمذي: هذا صحيح (2/ 867)۔
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرة: أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد اھ (ص: 12) والله تعالى أعلم
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1