السلام علیکم !
جناب عالی گذارش یہ ہے کہ میری بیٹی (ش) کو چچازاد بھائیوں نے شادی سے انکار پر بے گناہ گھر میں گھس کر فائرنگ سے قتل کر دیا، مقتولہ کو چھ (6) گولیاں لگی تھیں،میں نے FIR لکھوائی ،بعد میں کیس کا چالان کورٹ میں چلا گیا، جب میں نے کیس شروع کیا ،تو میرے بھائی نے اپنی گاڑی پر خود فائرنگ کردی ،اور ایک گولی اپنے بیٹے کو نرم گوشت پر ماری ،اور مجھے فون کیا کہ تم نے میرے بیٹے کی گاڑی پر فا ئرنگ کی ہے،اور تھانے میں نامعلوم FIR کاٹی اور میرے پیچھے بندوں کو بھیجا کہ اگر تم میرے بیٹوں کو معاف نہیں کرو گے ،تو میں تمہارے بیٹوں کو اس کیس میں اندر کر وادونگا ، جس کی وجہ سے ہمارے گھر والے گھبرا گئے،اور پھر ایک جرگہ ہوا جس میں ہم نے مجبوری کے عالم میں قرآن پاک پر حلف لیا کہ ہم لوگ آپ کے پیٹے کو معاف کرتے ہیں، ابھی ہمارا کیس کورٹ میں ہے کیا میں ان پر کیس چلا سکتا ہوں، باقی قصداً میں دیت کتنی ہے ؟ ہمیں قرآن اور حدیث کی روشنی میں آگاہ کریں،مہربانی ہوگی ۔ اور اگر میں کورٹ میں جج کے سامنے معافی دینے سے انکار کر دوں ، تو اس بارے میں بھی آگاہ کریں۔
اگرچہ سائل کے چچازاد بھائیوں کا مذکور فعل گناہِ کبیرہ ہے ، اور اس پر مزید دھمکی آمیز رویہّ اختیار کرنا گناہ پر گناہ ہے، جس کی بناء پر سائل کو کورٹ میں کیس چلانے کا پھر بھی اختیار ہے، مگر جب معافی تلافی ہوگئی ،تو اب بجائے کیس چلانے کے مصالحت کی بنیاد پر معاوضہ لیکر اس کیس کو ختم کر دیا جائے، تو زیادہ بہتر اور فریقین کیلئے سکون کا باعث ہوگا۔
في الدر المختار: (لا) يقسم (بغير الله تعالى كالنبي والقرآن والكعبة) قال الكمال: ولا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا اھ (3/ 712)۔
وفي حاشية ابن عابدين: تحت (قوله قال الكمال إلخ) مبني على أن القرآن بمعنى كلام الله (إلى قوله) قلت: فحيث لم يجز أن يطلق عليه أنه مخلوق ينبغي أن لا يجوز أن يطلق عليه أنه غيره تعالى بمعنى أنه ليس صفة له لأن الصفات ليست عينا ولا غيرا كما قرر في محله، ولذا قالوا: من قال بخلق القرآن فهو كافر. (إلى قوله) وقال محمد بن مقاتل الرازي: إنه يمين، وبه أخذ جمهور مشايخنا اهـ (3/ 713)۔
وفي الدر المختار: (يجب القود) أي القصاص (بقتل كل محقون الدم) بالنظر لقاتله درر، وسيتضح عند قوله وقتل القاتل أجنبي (على التأبيد عمدا) وهو المسلم والذمي لا المستأمن والحربي (بشرط كون القاتل مكلفا) لما تقرر أنه ليس لصبي ومجنون عمد. (6/ 532)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله وإن وقع بأقل منه لم يصح الصلح) اعترضه الاتقاني بأن محمدا لم يقيده بقدر الدية بل أطلق. وفي مختصر الكرخي: وإذا وجب لرجل على رجل قصاص في نفس أو فيما دونها فصالحه على مال جاز قليلا كان أو كثيرا اھ(6/ 538)۔
بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟
یونیکوڈ حدود و قصاص 0