محترم جناب مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عرض یہ ہے کہ میں صدر میں ایک کیمرہ کی دُکان کا مالک ہوں، میں اور میرے والد صاحب ایک ساتھ ہوتے ہیں، والد صاحب کا تقریباً ۲۵ پچیس سال سے یہی کام ہے، یعنی Digital still camera کی خرید و فروخت اور مرمت،مجھے بھی تقریباً ۵ (پانچ سال) اس لائن میں ہو چکے ہیں ، اس درمیان میں نے تبلیغ میں وقت لگایا تو ایمان نے اس کام کو کرنا گوارا نہ سمجھا ، لیکن کچھ حالت ایسے ہو گئے تھے کہ جن کی وجہ سے مجھے دوبارہ اس لائن میں آنا پڑا ہے ،اتنی بات تو عام طور پر علم میں ہے کہ تصویر کسی جاندار کی بنانا حرام ہے ،اور فرشتے رحمت کے وہاں نہیں جاتے، لیکن میرا کام تصویریں کھینچنے کا نہیں، بلکہ صرف فوٹو کیمرہ بیچنے کا اور خریدنے کا ہے، لہذا آپ مہربانی فرما کرکے مجھے اس مسئلے کا تفصیلی جواب مرحمت فرمائیے کہ میرے اِس کام میں شریعت کا کیا حکم ہے کہ کچھ گنجائش اس کاروبار کی ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کن شرائط کے ساتھ؟ فقط
سائل کیلئے مذکور کام کرنے کی اگرچہ بکراہت اجازت ہے، یہ حرام نہیں ،مگر اس سے احتراز بہتر ہے، اس لئے کہ کیمرے کا بکثرت استعمال تصویر سازی میں ہی ہوتا ہے۔
ففي مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أشد الناس عذابا عند الله المصورون» اھ (2/ 1274)۔
وفيھا أیضاً: وعن ابن عباس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كل مصور في النار يجعل له بكل صورة صورها نفسا فيعذبه في جهنم» . قال ابن عباس: فإن كنت لابد فاعلا فاصنع الشجر وما لا روح فيه اھ (2/ 1274)۔
و في الدر المختار: بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية (إلی قوله) (بخلاف بيع أمرد ممن يلوط به وبيع سلاح من أهل الفتنة) لأن المعصية تقوم بعينه (إلی قوله) قلت: وقدمنا ثمة معزيا للنهر أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها. فليحفظ توفيقا اھ (6/ 391)۔
وفي شرح المجلة: الامور بمقاصدها يعنى ان الحكم الذي يترتب على امر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الامر اھ (۱/ ۱۳)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1