السلام علیکم و رحمۃ الله و بركاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ نور الدین و برادران کی عبد المالک اور عبد المجید کے ساتھ زمینوں میں شراکت تھی ۔ نور الدین کی کچھ رقم عبد المجید کے ذمہ تھی، عبد المجید کا انتقال ہو چکا ہے ۔عبد المجید عبد المالک کے ساتھ ایک زمین میں شریک تھے، اس زمین کی نوعیت یہ ہے کہ عبد المالک اور عبد المجید سوا تین آنے کی شریک ہیں پونے تیرا آنے کے غیر لوگ شریک ہیں اور یہ زمین مختلف سروے نمبروں میں ہے اور درمیان میں گورنمنٹ کی زمین ہے۔ عبد المجید نے نور الدین کو اپنے قرضے کے بدلے میں زمین دے دی تھی، لیکن نہ ہی لکھ پڑھ ہوا اور نہ ہی قبضہ دیا۔ اور نہ ہی قبضہ دیا جا سکتا تھا اور نہ ہی کاغذ دیا کوئی۔
سوال یہ ہے کہ یہ زمین کی کس کی ہوگی نور الدین کی یا عبد المجید کی ؟جبکہ زمین کو رقم کے عوض دیدینے پر گواہ بھی موجود ہیں ۔ فقط
قرض کے عوض گواہوں کی موجودگی میں مشترک زمین میں سے اپنا حصہ دینا اور پھر قرض خواہ کا اسے قبول کرنا بلاشبہ جائز ہے اور اس سے عقدِ بیع بھی منقعد ہو گیاہے جس کے نتیجے میں نور الدین اس کے حصے کا مالک شمار ہوگا ۔
کمافی الشامیۃ: اذا باع احد الشریکین فی البناء والغراس فی الارض المحتکرۃ حصتہ من اجنبی ھل یجوز بیع ام لا ؟ اجاب ! نعم یجوز وکذا الشریک اھ(4/301)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1