السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
جناب مفتی! میں درجِ ذیل سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔
(۱) ہم کرنسی تبدیلی کا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں تو آپ بتائیں کہ حرام ہے یا حلال ؟
(۲) فی الحال ہم کمر شل (تجارتی/ دستیابی) اشیاء کا کاروبار کر رہے ہیں۔ جو کہ بہت مشکل ہے۔ اور وہ اشیاء آسانی سے نہیں بکتی، ہم نے ان چیزوں کو آہستہ آہستہ بیچا ہے اور ہمیں اچھا نفع حاصل ہوا ہے ۔مثلا 50 یا 70 فیصد اور ہم پرزوں کی ایک سالہ گارنٹی بھی دیتے ہیں وغیرہ ۔ اس کے علاوہ بھی خدمات فراہم کرتے ہیں ۔ مہربانی فرما کر ہمیں بتائیں کہ کتنا نفع حاصل کرنے کی اجازت ہے ؟ اور اگر سو فیصد منافع حاصل ہوں تو کیا یہ حلال ہے یا نہیں ؟ اللہ حافظ
اگر ایک ہی ملک کی کرنسی ہو اور اسے آپس میں تبدیل کیا جائے تو اس کے جواز کے لئے دو شرطیں ضروری ہیں ۔ (1) ایک یہ کہ کرنسی دونوں طرف سے نقد اور بالکل برابر سرابر ہو کمی، زیادتی نہ ہو، ورنہ سود میں داخل ہو جائیگا ۔ مثلاً پاکستانی سو روپیہ کے بدلے میں سو روپیہ ہی لیے جائیں۔ (۲) دوسری یہ کہ مجلسِ عقد میں دونوں طرف قبضہ پایا جائے۔ اور اگر مختلف ملکوں کی کرنسیوں کو آپس میں تبدیل کیا جائے تو اس صورت میں اگر چہ کمی زیادتی جائز ہے۔ مگر مجلسِ عقد میں ایک طرف سے قبضے کا ہونا ضروری ہے۔ جبکہ گاہک کو دھو کہ یا جھوٹ بول کر سو فیصد منافع حاصل کرنا غبن فاحش کی بناء پر شرعاً جائز نہیں۔ جس سے احتراز چاہیئے ۔ اگر چہ فی نفسہ منافع کی شرعاً کوئی حد متعین نہیں۔
کمافی تکملۃ فتح الملھم: واما الحنفیۃ فالفلوس عندھم عددیۃ،فلیست من الاموال الربویۃ فاحکامھا من ھذہ الجھۃ علیٰ وجوہ عندھم والحکم فیھا مختلف(1): بیع الفلوس بمثلھا کالفلس الواحد بالفلس الواحد الآخر وھذا انما یجوز اذا تحقق القبض فی احد البدلین فی المجلس قبل ان یفترق المبائعان فان تفرقا ولم یقبض احد شیئا فسد العقد لان الفلوس لاتتعین فصارت دینا علی کلااحد،والافتراق عن دین بدین لایجوز۔۔۔ولکن قدمنا ھناك ان المختار عندنا قول من یجعلھا اثمانا اصطلاحیۃ،وحینئذ تجری علیھا احکام الفلوس النافقۃ سواء بسواء وقدمنا آنفا ان مبادلۃ الفلوس بجنسھا لایجوز بالتفاضل عند محمد وینبغی ان یفتی بھذا القول فی ھذا الزمان، سدا لباب الربا وعلیہ فلایجوز مبادلۃ الاوراق النقدیۃ بجنسھا متفاضلۃ،ویجوز اذا کانت مماثلۃ والمماثلۃ ھٰھنا ایضا تکون بالقیمۃ لابالعدد کما فی الفلوس فیجوز ان یباع ورق نقدی قیمتہ عشر ربیات بعشرۃ اوراق قیمۃ کل واحد منھا ربیۃ واحدۃ ولایجوز ان یباع الاول باحد عشر ورقاً من الثانیۃ واما العملۃ الاجنبیۃ من الاوراق فنھی جنس آخر،فیجوز مبادلتھا بالتفاضل،فیجوز بیع ثلاث ربیات باکستانیۃ بریال واحد سعودی اھ(1/587)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1