کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے چوری کی اور وہ چوری کی چیز اس شخص نے کسی دوسرے آدمی پر بیچ دی، جبکہ اس مشتری کو اس چور کے بارے میں علم نہیں کہ یہ کون ہے اور کہاں کا ہے،وہ چور اب غائب ہے، ابھی وہ دوسرا آدمی کسی تیسرے شخص کو فروخت کرتا ہے، کیا اس تیسرے شخص کے لئے اس چیز کا خریدنا صحیح ہے کہ نہیں؟ تفصیل سے عرض ہے کہ ایک سائیکل پر عقد ہو چکا ہے یہ ایک چرسی آدمی سے خریدا ہوا سائیکل ہے جس سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ سائیکل چوری شدہ ہے ۔
بائع اول کے چرسی ہونے کی وجہ سے اگر غائب گمان یہی تھا کہ سائیکل چوری کی ہوگی تو اس صورت میں مشتری پر لازم ہے کہ یہ سائیکل بائع کو واپس کر کے اپنی ادا شدہ رقم اس سے واپس لے اور اس مشکوک سائیکل کو آگے بیچنے سے احتراز لازم ہے۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1