کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے ایک دوست مسمی حامد نے زید سے ایک زمین 75 ہزار روپے میں خریدی، اور خریدتے وقت حامد نے یہ شرط لگائی کہ اب تم بائع (زید)) اس زمین کو خریدنے کا مطالبہ نہیں کرنا اور اگر اس زمین کو تم نے مجھ سے خریدنا چاہا یا تمہارے کسی رشتہ دار نے اس زمین پر حق شفعہ دائر کیا تو پھر یہ زمین میں ایک لاکھ 75 ہزار روپے پر بیچوں گا، اب مسئلہ یہ ہے کہ کچھ سالوں بعد پھر زید (بائع اول) حامد سے یہ زمین خرید نا چاہ رہا ہے اور حامد ایک لاکھ 75 ہزار روپے سے کم پر بیچنے میں تیار نہیں ہے اور زید (بائع (اول) کا اصرار ہے کہ اس نے تو 75 ہزار روپے میں بیچی تھی لہذا اس پر بھی اتنے ہی میں بیچی جائے، اب پوچھنا یہ ہے کہ حامد کا زمین کو اپنی لگائی ہوئی شرط کی بناء پر ایک لاکھ 75 ہزار میں بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور شرط کا کوئی اعتبار نہیں، بلکہ مسمی حامد اپنی زمین کم یا زیادہ قیمت پر بیچنے میں خود مختار ہے۔ وہ جتنے میں چاہے بیچ سکتا ہے ۔
كما في الفتاوى الھندية:ومن اشترى شيئا وأغلى في ثمنه فباعه مرابحة على ذلك جاز (3/ 161)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1