کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری گور نمنٹ یہ اعلان کرتی ہے کہ جو کمپنیاں حاجیوں کی خدمت کا ارادہ رکھتی ہوں وہ ہمارے پاس درخواست جمع کرادے، درخواست جمع کرانے والی کمپنیوں کے نام حکومت اپنے پاس رجسٹرڈ کر دیتی ہے، جس کے بعد وقت آنے پر مختلف معین افراد کا کوٹہ رجسٹرڈ کمپنیوں کو فراہم کرتی ہے تو جس کمپنی کو یہ کوٹہ مل جائے وہ آگے دوسرے شخص کو وہ کمپنی فروخت کر سکتی ہے یا نہیں ؟ یا اسی طرح کوٹہ ملی ہوئی کمپنی جس میں مثلاً چار افراد کے پچیس پچیس پرسنٹ شئیرز ہوں، ان میں کوئی ایک فرد دوسرے کو قیمت لے کر اپنے حصہ کے شیئرز دوسرے کو فروخت کر سکتا ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ مذکور حج کوٹہ ایک حق مجرد ہے جس کا کوئی عینی وجود نہیں ، اس وجہ سے اس کی خرید و فروخت تو شرعاً جائز نہیں ہے، مگر اس کے حصول کے لئے بھاگ دوڑ کرنے اور وقت کی قربانی کے ساتھ مالی اخراجات بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں، جس کی وجہ سے تاجروں کے عرف میں اس کو قابل قیمت شۓ شمار کیا جاتا ہے، لہذا حکومت وقت کی طرف سے اگر حاملِ کوٹہ کو اس حق کی منتقلی کا اختیار دیا گیا ہو تو اس کا کسی دوسرے کو بلا معاوضہ دینا یا کسی دوسرے مخلص اور ادارہ کے حق میں دستبردار ہونے کی صورت میں اس پر کچھ معاوضہ لینا جائز اور درست ہے، اسی طرح اگر کوٹہ کئی افراد کے درمیان مشترک ہو اور ان میں سے کوئی فرد کسی دوسرے شخص کے حق میں معاوضہ لیکر دستبردار ہونا چاہے تو اس کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
کمافی فقہ البیوع: وماقلنا فی حکم الاسم التجاری والعلامۃ التجاریۃ من جواز الاعتیاض عنھما یصدق علیٰ الترخیص التجاری وحقیقۃ ھذا الترخیص ان معظم الحکومات الیوم لاتسمح بایراد البضاعات من الخارج او اصدارھا الیہ الا برخصۃ تمنحھا الحکومۃ والذی یظھر ان ھذا نوع من الحجر علیٰ التجار(الیٰ قولہ) وان حامل ھذہ الرخصۃ ربما یبیعھا الیٰ آخر لیتمکن المشتری من استیراد البضائع من الخارج او یصدرھا الیہ بدلا من البائع والواقع فی مثل ھذہ الرخصۃ انھا لیست عینا مادیۃ ولکنھا عبارۃ عن حق بیع البضاعۃ فی الخارج او شرائھا منہ فیتأتی ماذکرنا فی الاسم التجاری من ان ھذا الحق ثابت اصالۃ،فیجوز النزول عنہ بمال وبما ان الحصول علیٰ ھذہ الرخصۃ من الحکومۃ یتطلب کلا من الجھد والوقت والمال وان لھذہ الرخصۃ صفۃ قانونیۃ تمثلھا الشھادات المکتوبۃ ویستحق بھا التجار تسھیلات توفرھا الحکومۃ لحاملیھا،فصارت ھذہ الرخصۃ فی عرف التجار ذات قیمۃ کبیرۃ یسلک بھا مسلک الاموال،فلایبعد ان تلتحق بالاعیان فی جواز بیعھا وشرائھا ولکن کل ذلک انما یتأتی اذا کان القانون یسمح بنقل ھذہ الرخصۃ الیٰ رجل آخر اھ(1/280)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1