کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی چیز قسطوں پر لی جائے تو اس کا حکم کیا ہے؟ نیز اس کی شرائط بھی بتا دیجیے۔
درجِ ذیل چند شرائط ہیں جنہیں ملحوظ رکھنے کی صورت میں قسطوں کا کاروبار شرعاً بھی جائز اور درست ہوتا ہے وہ شرائط یہ ہیں:
(1)۔ اول یہ کہ ابتدائے عقد کے وقت نقد یا ادھار لینے کا معاملہ طے کر لیا جائے ۔
(۲) اور کل قیمت بتانے کے بعد کل قسطیں اور ہر قسط کی مقدار بھی متعین کرلی جائے۔
(۳) اور اگر کسی وجہ سے کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہو جائے تو اس پر کچھ جرمانہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے ورنہ یہ عقد جائز نہیں رہے گا۔
ففي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 8)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1