کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک ماموں تھا عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی اور غیر شادی شدہ تھا ان کی بہت جائیداد تھی، میرے نانا کی وصیت اور شرعی قانون کے مطابق ان کے ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ دیا جانا تھا ، لیکن میرے نانا غلام محمد کی وصیت کے باوجود میرا ماموں نظیر احمد اپنے بہنوں کو حصہ نہیں دینا چاہتا تھا، اس تنازعہ پر ان کے تین بہنوں نے کورٹ میں اپیل کی ۔کیس تقریباً تیرہ سال چلتا رہا، اور اتنے عرصہ بعد بالآخر کورٹ نے حکومتی کمیشن مقرر کر کے جائیداد کی تقسیم کا کام کیا، لیکن میرا ماموں نظیر احمد پھر بھی اس جائیداد پر قابض رہا اور طرح طرح کے رکاوٹیں قائم کیں تاکہ کسی طریقہ سے تقسیم کا کام روک سکے، جھگڑا تو کئی سالوں سے جاری تھا اور اسی دوران بہنوں کے بچوں (بھانجوں) اور ماموں کے درمیان تلخ کلامی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ عروج پر تھا، اور بالآخر ایک بھانجے نے اسے قتل کر دیا، یہ قتل اس نے کسی اُجرتی کو پیسے دیکر کروایا ، اب میراث کا معاملہ تو اور بھی بگڑ گیا اور میرے ماموں نظیر احمد کے چچا زاد بھائی بھی اس میراث میں آگئے، نظیر احمد کے چچا زاد بھائی ان کے بہنوں کو حصہ نہیں دینا چاہتے تھے اور کسی صورت ان کے حصوں کو ماننے کو تیار نہیں تھے ، اور یوں دشمنی اور پھیل گئی (نظیر احمد میر اماموں بھی ہے اور میرے والد کا چچازاد بھائی بھی ہے) یعنی نظیر احمد کے تین بہنوں میں ایک بہن چچا زاد بھائی (میرے والد) کی بیوی ہے، اسی طرح نظیر احمد کے ساتھ ہمارے دو رشتے ہیں، اس سارے فساد کو ختم کرنے اور جائیداد کو حاصل کرنے کے لئے میں نے ایک ترکیب سوچی وہ یہ کہ میں ایک ایسے شخص کے پاس گیا جو تعویذ، جادو اور منتر وغیرہ کیا کرتا تھا، اس کے سبب پر کوئی ایسا چکر چلایا جس سے یہ سب میری بات ماننے کو تیار ہو گئے میں نے کیا یہ کہ ان سب کو رقم دے کر میراث کا وہ حصہ جو ہر کسی کو ملنے والا تھا خرید لیا، نظیر احمد کی بہنوں میں میری ماں کو جتنا ملنا تھا وہ تو الگ ہے لیکن باقی دو بہنوں کا حصہ میں نے اس تعویزوں والے کی مدد سے خرید لیا چونکہ ان کے اوپر تعویز جادو اور منتر کا اثر تھا ،اس لئے میں نے رقم بھی اپنی مرضی کی یعنی بہت کم دی ، جائیداد کے ایسی رسید کے رکھتے وقت بہت سے چشم دید گواہان موجود تھے، اور فروخت کرنے والے بالکل اپنے ہوش و حواس میں تھے، اور یوں میں نے جگڑا ختم کر کے جائیداد اپنا لی، تو میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ جائیداد حاصل کرنے کے لئے اور خریدنے کے لئے جو طریقہ اپنایا ہے کیا وہ غلط ہے، لیکن کیا اب ہمارے لئے یہ جائیداد حرام ہے؟ میں نے یہ سوال کئی دوسرے علماءِ کرام سے بھی پوچھا کسی نے کہا کہ طریقہ تو غلط ہے لیکن چونکہ رسید لکھتے وقت ان سب کے ہوش و حواس درست تھے اور رقم وصول کی اور درمیان میں بہت سے چشم دید گواہاں موجود تھے لہذا اب یہ جائیداد ہمارے لئے حرام نہیں ہے، لیکن ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ کار چونکہ بہت گناہ والا ہے اس لئے تم اس پر گنہگار ہو اور اس کی الگ سزا ملے گی، اسی طرح کئی دوسرے جواب بھی ملے، لیکن پھر بھی میں نے آپ لوگوں کو خط لکھا تا کہ میری پوری تسلی ہو جائے۔اب اس جائیداد کی کیا حیثیت ہے ہمارے لئے؟ حرام ہے ؟ یا مندرجہ بالا جواب صحیح ہے؟
(۲) میرا دوسرا سوال آپ سے یہ ہے کہ جس بھانجے نے ماموں کو قتل کیا اور اس کی ماں کو کتنا حصہ ملنا تھا کیا جائیداد کے اس حصے سے ان کو محروم کیا جا سکتا ہے؟
(۳) اور اگر ہم لوگ ماموں کا بدلہ لیں تو کیا یہ جائز ہوگا جبکہ عدالت میں سو سال گزرنے کے باوجود ہم اسے پھانسی نہیں دلوا سکتے اور وہ اب بھی ہم دوسروں لوگوں کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے ؟
(۱) اگر تعویذ کی وجہ سے وہ بالکل محبوط الحواس اور مسلوب العقل ہو گئے تھے اور بعد میں انہیں نقصان کا ہونا معلوم ہوا ہو تو شرعاً یہ بیع معتبر نہیں۔اور اگر ان کی مذکورہ حالت نہیں ہوئی، البتہ بیع پر آمادہ ہوئے اور بوقتِ عقد ان کے حواس و عقل بالکل سالم تھے (جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے) تو شرعاً یہ بیع منعقد ہو چکی ہے اور سائل کے لئے اس زمین کا استعمال بھی جائز اور حلال ہے۔ مگر جادو کے ذریعہ انہیں کم قیمت پرآمادہ کرنا بلاشبہ دھوکہ ہے جو گناہ کی بات ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
(۲، ۳) جس خالہ کے بیٹے نے اپنے ماموں کو قتل کیا وہ اگر چہ اپنی اس حرکت کی وجہ سے بہت سخت گناہ گار ہوا ہے مگر اس کی وجہ سے مذکور خالہ اپنے حصہ میراث سے محروم نہیں ہوگی، جبکہ سائل کے لئے بذات خود اس لڑکے کو قتل کرنا جائز نہیں ۔ ہاں اگر وہ حملہ آور ہو اور اس دوران اسے قتل کر دیا گیا تو اس کی وجہ سے سائل یا دوسرا قتل کر نے والا گناہ گار بھی نہیں ہوگا۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1