(۱) کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کراچی کے اندر ایک دوکان ایسی ہے جہاں پر چوری کا مال سستے داموں بکتا ہے۔ یہ بات جس وقت بندہ کے رشتہ داروں کو معلوم ہوئی تو انہوں نے بندہ سے کہا کہ وہاں اس دوکان سے اشیاء خرید لو ۔
سوال یہ ہے کہ بندے کا اپنے رشتہ داروں کے لئے مذکور اشیاء کا خرید نا جائز ہے یا نہیں ہے ؟
(۲) اگر خرید نے والوں کو یہ بات معلوم نہ ہو تو آیا اس کے لئے مذکور مال کو خریدنا اور اس کے بعد فروخت کرنا اور اپنے لئے استعمال کرنا جائز ہے؟
چوری کا مال جیسے اپنی ذات کے لئے خریدنا جائز نہیں اسی طرح بطورِ توکیل دوسرے کے لئے بھی خرید نا حرام ہے۔ ہاں اگر اصل خریدار یا اس کے وکیل کو اس مال سے متعلق چوری کا مال ہونے کا علم نہ ہو تو وہ اگر چہ گناہ گار نہیں ہوگا مگر مؤکل جسے معلوم ہے اس کے لئے ا س صورت میں بھی جائز نہیں ۔ لہٰذا اس قسم کا مال خود خرید نے یا کسی وکیل کے ذریعے خرید نے سے احتراز واجب ہے۔
کمافی الدرالمختار: وفي الأشباه الحرمة تنتقل مع العلم إلا للوارث إلا إذا علم ربه الخ
(قوله وفي الأشباه إلخ) قال الشيخ عبد الوهاب الشعراني في كتاب المنن: وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى إلى ذمتين سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما من رأى المكاس يأخذ من أحد شيئا من المكس، ثم يعطيه آخر ثم يأخذه من ذلك الآخر فهو حرام اهـ.(6/385)۔
وفی البحر الرائق: وخرج بقولنا وان یکون ملکا للبائع مالیس للبائع کذلک فلم ینعقد بیع مالیس بمملوک لہ اھ(5/260)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1