ایک چیز دوکان میں موجود نہیں ہوتی؟جبکہ مارکیٹ یا قریب کی دوکان میں موجود ہے کیا اس کا سودا کرنا یا بیچنا درست ہے یا نہیں؟ اور ایڈوانس کے طور پر لینا کیسا ہے ؟ اور ریٹ متعین کرنا بھی صحیح ہے یا نہیں ؟
مذکور طریقہ پر غیر ملوک شئی کی بیع شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر وعدۂ بیع کر لیا جائے اور اس کے موجود ہونے کے بعد باضابطہ ایجاب و قبول کر لیا جائے تو یہ بلاشہ جائز ہے اور ایسا ہی کرنا چاہیئے ۔
کمافی الشامیۃ: وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم(الیٰ قولہ)ولا بيع ما ليس مملوكا له وإن ملكه بعده اھ(4/505)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1