السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته!
میرے سوالات نہایت اہم اور حساس نوعیت کے ہیں، اور ان کا تعلق والدین کی طرف سے اپنی اولاد کو زندگی میں دی جانے والی جائیداد یا تحائف سے ہے۔
سوال نمبر (1):کیا والدین اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو اپنی جائیداد بطور تحفہ دے سکتے ہیں؟اگر وہ دینا چاہیں، تو کیا یہ ضروری ہے کہ وہ شرعی وراثت کے اصولوں کے مطابق ہی دیں؟یا وہ اپنی مرضی سے بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر بھی دے سکتے ہیں؟
سوال نمبر (2):اگر والدین نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنی اولاد کو بطور تحفہ دے دی ہو، اور سب کو برابر برابر دیا ہو، اور اس پر والدین اور اولاد دونوں کے دستخط موجود ہوں، لیکن یہ عمل صرف کاغذی ہو یعنی قانونی طور پر انتقال نہیں ہوا ہو، اور جائیداد اب بھی والدین کے نام پر ہو،تو کیا والدین کی وفات کے بعد اس تحفے کی حیثیت باقی رہے گی؟یا شرعی طور پر اس جائیداد کو دوبارہ وراثت کے اصولوں کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہوگا؟گزارش ہے کہ ان سوالات کے جوابات قران و سنت کی روشنی میں دیں۔
واضح ہوکہ ہرشخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے ،اس میں تصرف کرسکتاہے، اس پر اسکی زندگی میں اپنا مال جائیداداپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم اور ضروری نہیں، اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہےکہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے، لہذا سائل کے والد کے ذمہ بھی شرعاً اپنا مال وجائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنالازم اور ضروری نہیں ،البتہ اگر سائل کے والداپنی صحت والی زندگی میں بلا کسی جبر واکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال وجائیداد وغیرہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتے ہوں تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے،مگر یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ،جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائل کےوالد ایک محتاط اندازے کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے،وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد (بیٹے،بیٹیوں)کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے،تاکہ یہ ہبہ شرعاً بھی تام اور درست ہوسکے،محض کاغذات میں نام کردینا کافی نہیں ہے ،پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاءمیں سب کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہے،کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے،تاہم اگر وہ اولاد میں سے کسی کی خدمت گزاری،محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی بنا ء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا بھی اسے اختیار ہے مگر بلا وجہِ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کیونکہ یہ گناہ کی بات ہے، لہذا سوال میں مذکور والدین نے اپنی صحت والی زندگی میں اپنی جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کا حصہ مالکانہ حقوق کے ساتھ حوالہ کرکے قبضہ بھی دیدیا ہوتوہر ایک اپنے اپنے حصے کا مالک بن چکا ہے،اگرچہ قانونی طور پر یہ جائیداد ان کے نام منتقل نہ ہوئی ہو،تب بھی والدین کے انتقال کے بعد اس میں وراثت کے احکام جاری نہ ہوں گے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح:وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» و في روايةقال:«فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»اھ (باب العطایا، ط: قدیمی1/261)۔
وفی رد المحتار"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل".اھ (4/444 الناشر: دار الفكر-بيروت)۔
و فی الھندیہ:واما شرائطھا:منھا ان یکون الموھوب مقبوضاحتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض،واما حکمھا فثبوت الملک للموھوب لہ اھ(4/347 الناشر: دار الفكر)۔