بسم الله الرحمٰن الرحيم !
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر پیسوں کے عوض سونا خریدا جائے۔ اور سونا لے کر کچھ یا تمام پیسے کچھ وقت کے لئے اُدھار کیا جائے تو کیا یہ بیع جائز ہو گی یا نہیں؟ از راہ کرم ہر دو صورت میں تفصیلی و مددلل جواب دے کر ممنون فرمائیں۔ والسلام!
جی ہاں! اگر چہ اس طرح عقد کرنے سے بھی یہ عقد شرعاً جائز اور درست کہلائیگا۔ مگر کوشش چاہئے کہ ایسے معاملات میں ادھار کرنے سے احتراز کیا جائے۔
کمافی تکملۃ فتح الملھم: واما الاوراق النقدیۃ وھی التی تسمیٰ نوت(الیٰ قولہ)ان المختار عندنا قول من یجعلھا ثمناً اصطلاحیاً وحینئذ تجری علیھا احکام الفلوس النافقۃ اھ(1/590)۔
وفی المبسوط للسرخسی: [باب البيع بالفلوس] وإذا اشترى الرجل فلوسا بدراهم ونقد الثمن، ولم تكن الفلوس عند البائع فالبيع جائز؛ لأن الفلوس الرابحة ثمن كالنقود، وقد بينا أن حكم العقد في الثمن وجوبها ووجودها معا، ولا يشترط قيامها في ملك بائعها لصحة العقد كما يشترط ذلك في الدراهم والدنانير. وإن استقرض الفلوس من رجل ودفع إليه قبل الافتراق أو بعده فهو جائز إذا كان قد قبض الدراهم في المجلس لأنهما قد افترقا عن عين بدين، وذلك جائز في عين الصرف اھ(14/24)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1