کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ صراف کے ساتھ زیورات وغیرہ بنوانے کے سلسلہ میں ادھار معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
موجوده زمانہ میں ’’ کرنسی نوٹ ‘‘ ثمن ہی ہیں، جن کو ثمنِ عرفی کہتے ہیں، جبکہ زمانہ قدیم میں ان کی حقیقت ثمنِ خلقی کی رسید کی ہوتی تھی، لیکن موجودہ زمانہ میں ان کی ماہیت اور حقیقت تبدیل ہوگئی ہے، اور اب ثمنِ عرفی متصور ہوتے ہیں، لہذا کرنسی نوٹوں کے ذریعہ سونے چاندی کی خرید و فروخت جائز ہےاور اس پر بیعِ صرف کے احکام جاری ہوں گےاور کرنسی نوٹوں کے ذریعہ سونے چاندی کی ادھار خرید و فروخت بھی جائز ہے، بشرطیکہ قیمت کی ادائیگی کی مدت بوقتِ معاملہ متعین طور پر طے کرلی جائے، مثلاً ہفتہ، پندرہ دن یا ایک ماہ وغیرہ کی مدت طے کر لے تو اس طرح ادھار خرید و فروخت جائز ہے، لیکن بعض علماء کرنسی نوٹوں سے سونے چاندی کی ادھار بیع کو نا جائز بتاتے ہیں، اس لئے اگر کوئی شخص کرنسی نوٹوں سے سونا چاندی خرید نے میں ادھار معاملہ کرنے سے احتیاط کرے تو اچھا ہے۔ (ماخوذ از جدید تجارت)
کمافي تكملة فتح الملهم: فالحكم بعدم اداء الزکوۃ بأوراق العملة و بحرمة شراء الذهب والفضة بهما، فيه حرج عظيم والمعبود. من الشريعة السمحة في مثله السعة والسهولة والعمل بالعرف العام المتفاهم بين الناس اھ (۱/ ۵۲۰)۔
وفيه ايضا: ان المختار عندنا قول من يجعلها اثمانا اصطلاحية و حينئذ تجرى عليها أحكام الفلوس النافقة سواء بسواء وقد أسنان آنفا أن مبادلة الفلوس بجنسها لا يجوز بالتفاضل عند محمدؒ وينبغي ان يفتي بهذا القول في هذا الزمان سداً لباب الربا وعليه فلا يجوز مبادلة الأوراق النقدية بجنسها متفاضلة يجوز اذا كانت متماثلة اھ (۱/ ۵۹۰ )
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1