السلام علیکم!
میں نے موبائل فون کے دو الگ الگ سودےکیے ہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ آیا ان سودوں میں کوئی سود کا عنصر تو نہیں۔ ان سودوں کی تفصیل درجہ ذیل ہیں:
1):میرے پاس ایک موبائل فون تھا 2100 NOKIA - میں جب اس کو بیچنے کے لئے نکلا تو اس کی قیمت کا اندازہ 3,000 سے 3,500 رکھا۔ میری فیکٹری ہی کا ایک بندہ آیا تو میں نے اس سے کہا کہ کیش پر 3,000 روپے اور 500 ماہانہ پر 3,500 روپے، لیکن بات ہوتے ہوتے سودا 3,000 روپے 500 روپے ماہانہ قسط پر طے ہوا۔ تو کیا یہ سو دا صحیح ہے؟ اس میں کوئی سود کا عنصر تو نہیں؟
2:میرے ایک دفتر کے ساتھی نے اپنا فون بیچنے کے لئے نکالا ، اس کو اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے بیچنا پڑ رہا ہے۔ میرے دوسرے ساتھی نے پہلے ساتھی کوخود آفر کی کہ کیش 6,000 روپے اور بقیہ 2,500 روپے 500 روپے ماہانہ دونگا۔ پہلے ساتھی کے لئے یہ آفر تو بہت اچھی تھی، کیونکہ مارکیٹ میں اس وقت نیا سیٹ 8,300 کا ہے۔ لیکن قسط کی وجہ سے بات یہ بنی، تو پھر میں نے یہ سیٹ پہلے ساتھی سے 7,500 کیش میں خرید لیا۔ اور پھر خرید کر یہی سیٹ دوسرے ساتھی کو 8,500 میں بیچ دیا۔ (6,000 کیش اور بقایا 500 روپے ماہانہ)۔ تو کیا یہ سودا صحیح اور جائز ہے؟ از راهِ کرم ان دونوں سودوں کی اصلیت بیان کریں، اور اگر یہ نا جائز ہے تو اس کا کیا کیا جائے ؟ عین نوازش
مذکور دونوں صورتوں میں بیع کا طریقہ شرعاً جائز اور درست ہے سودی معاملہ پر محمول نہیں ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1