السلام علیکم مفتی صاحب !
مجھے پوچھنا تھا کہ یہ جو حوالے کا کاروبار ہوتا ہے جسے ہنڈی کا کام کہتے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص کسی اور ملک سے اپنے ملک رقم بھجواتا ہے اور وہ اس رقم کو جس کے ذریعے بھجواتا ہے وہ اس میں کچھ منافع رکھتا ہے جیسے اگر 5000 ہے اور آگے 4800 دیتا ہے اس کام میں نفع نقصان دونوں ہیں تو کیا یہ کا روبار سود میں شامل ہوتا ہے ؟
مختلف ممالک کی کرنسیوں میں ہنڈی کا کاروبار دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے۔ ایک یہ کہ یہ کام قانوناً بھی جائز ہو ۔ دوسرا یہ کہ بوقتِ عقد ایک جانب سے قبضہ پایا جا جائےور نہ یہ جائز نہیں رہیگا۔
کمافی الدرالمختار: طاعۃ الامام فیما لیس بمعصیۃ فرض اھ(4/264)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1