السلام علیکم
مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد جناب محمد اسماعیل شیخ مرحوم نے اپنی زندگی میں ایک پلاٹ جو ان کے نام پر رجسٹر تھا اس کے مالکانہ حقوق میرے نام کر دیے تھے ایک تحریر لکھ کر، جس پر والد صاحب کے دستخط ہیں اور گواہان میں میرے بڑے بھائی شیخ عبدالستار مرحوم او رمیری دو بہنوں کے دستخط ہیں یہ دونوں بہنیں حیات ہیں، پر بڑے بھائی شیخ عبد الستار اور والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے ۔یہ پلاٹ میرے والد کے نام پر ان کی اپنی کوشش سے نیلامی میں نکلا تھا جس کا فارم والد صاحب نے بھرا تھا اپنے نام سے ،اس پلاٹ کی تمام ادائیگیاں میرے بڑے بھائی جناب عبدالستار مرحوم نے خاندان کے مشترکہ کاروبار سے کی تھیں ۔بڑے بھائی اوائل عمر سے ہی والد صاحب کے ساتھ کاروبار میں شامل رہے تھے اور والد صاحب سے زیادہ محنت بھی ان ہی کی رہی تھی ایک عرصہ سے ۔سوال یہ ہے کہ کیا اس تحریر کی کوئی شرعی حیثیت ہے جس میں ایک باپ اپنے کئی وارثین میں سے ایک وارث بیٹے کو ایک ایسے پلاٹ کا مالک بنا دے جو ہو تو اس باپ ہی کے نام لیکن جس کی اکثر ادائیگی ایک دوسرے بیٹے نے کی ہو ؟پر وہ بیٹا بھی گواہان میں شامل ہو یعنی اپنی رضامندی ظاہر کرے -
صورت مسئولہ میں مذکور کاروبار اگر والد مر حوم نے اپنے ذاتی سرمایہ سے شروع کیا ہو جس میں مذکور بھائی بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے والد کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے کی نیت سے شریک ہوا ہو ، تو ایسی صورت میں چونکہ بڑے بھائی کی حیثیت ایک معاون و مددگار کی تھی ، اس لیے وہ کاروبار اور اس کاروبار سے کمائی گئی رقم سے خریدا گیا پلاٹ والد کی ملکیت تھا ، چنانچہ وہ پلاٹ اگر والد مرحوم نے فقط کاغذات میں سائل کے نام نہ کیا ہو ، بلکہ اس نام کرنے کے ساتھ ساتھ سائل کو اس پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ و تصرف کا اختیار بھی دیا ہو ، تو سائل اس پلاٹ کا مالک بن چکا ہے ، جس میں اسے مالکانہ تصرفات کا شرعا ًبھی اختیار ہوگا ۔
كما في حاشية ابن عابدين: الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب (فصل في الشركة الفاسدة، ج : ٤،ص : ٣٢٥ ،ناشر : ايچ ایم سعید )
وفي الخانية : رجل له ابن و ابنة أراد أن يهب لهما شيئا و يفضل أحدهما على الاخر في الهبة اجمعوا على لا بأس بتفضيل بعض الاولاد على البعض في المحبة (فصل في هبة الوالد لولده ،ج:٣ ، ص: ٢٧ ٩، ناشر:ماجدية)
و فيها أيضا: رجل قال جعلت هذا لولدي فلان كانت هبة(فصل في هبة الوالد لولده ،ج : ٣، ص: ٢٧٩ ، ناشر:ماجدية)
وفي التاترخانية : وأما شرائط صحتها فأنواع ،أما في الموهوب فهو أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما اذا كان ما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب (كتاب الهبة ، ج: ١٤، ص؛ ٤١٢،ناشر ؛ حقانية )
وفي الهندية : وأما ما يرجع إلى الواهب فهو أن يكون الواهب من أهل الهبة وكونه من أهلها أن يكون حرا عاقلا بالغا مالكا للموهوب حتى لو كان عبدا أو مكاتبا أو مدبرا أو أم ولد أو من في رقبته شيء من الرق أو كان صغيرا أو مجنونا أو لا يكون مالكا للموهوب لا يصح هكذا في النهاية وأما ما يرجع إلى الموهوب فأنواع منها أن يكون موجودا وقت الهبة فلا يجوز هبة ما ليس بموجود وقت العقد ومنها أن يكون مالا متقوما فلا تجوز هبة ما ليس بمال أصلا ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض ومنها أن يكون مملوكا فلا تجوز هبة المباحات لأن تمليك ما ليس بمملوك محال ومنها أن يكون مملوكا للواهب فلا تجوز هبة مال الغير بغير إذنه (كتاب الهبة، ج: ٤، ص: ٣٧٤، ناشر: ماجدية )