میں ایک 70 سالہ خاتون ہوں،میرے نام پر حیدرآباد میں ایک فلیٹ ہے، میں نے اپنی زندگی میں اپنی اولاد (ایک بیٹا اور ایک بیٹی) کے درمیان اس فلیٹ کو برابر برابر تقسیم کر دیا، اور یہ کام میں نے ایک تحریری معاہدے کے ذریعے کیا، اس معاہدے کے تحت میری بیٹی نے اپنے بھائی کو فلیٹ کی آدھی رقم ادا کر دی، اور یوں وہ حقیقتاً اس فلیٹ کی مالک بن گئی، تاہم اب بھی فلیٹ کی رجسٹری میرے ہی نام پر ہے، یعنی والدہ کے نام پر ہے،میں اس وقت اپنے بیٹے کے ساتھ کراچی میں کرائے کے مکان میں رہتی ہوں، اور چونکہ حیدرآباد ہمارا آبائی شہر ہے، اس لئے ہم نے حیدرآباد والے فلیٹ کو کرائے پر دے دیا، میں اس فلیٹ کا کرایہ اپنی بیٹی کو دیتی رہی ہوں، اس طرح دو سال گزر چکے ہیں،اب موجودہ حالات، مہنگائی، اور ذاتی ضرورت کے پیش نظر، میں اپنے اس تحریری فیصلے پر نظرثانی کرنا چاہتی ہوں، اور اپنی بیٹی سے وہ فلیٹ واپس لینا چاہتی ہوں، اور جو رقم اس نے اپنے بھائی کو دی تھی، وہ میں اسے واپس کرنے کے لیے تیار ہوں،میرا مقصد فی الحال اس معاہدے کو ختم یا مؤخر کرنا ہے، تاکہ میں اپنی زندگی کے باقی دن بغیر کرائے کے اپنے ہی فلیٹ میں گزار سکوں،میرے شرعی سوالات یہ ہیں:کیا بحیثیتِ والدہ میں اپنے اس تحریری معاہدے کو ختم یا مؤخر کر سکتی ہوں؟ جبکہ فلیٹ کی رجسٹری اب بھی میرے ہی نام پر ہے،اگر معاہدے کو بحال کرنا ہو تو کیا یہ پرانی قیمت پر بحال ہوگا یا موجودہ مارکیٹ ویلیو پر دوبارہ طے کیا جا سکتا ہے؟ان سب باتوں میں اسلامی شریعت کا کیا حکم ہے؟کیا ایسا کرنے سے ہم کسی گناہ کے مرتکب تو نہیں ہوں گے؟یعنی اگر میں اپنی بیٹی سے فلیٹ واپس لے لوں اور اسے اس کی دی ہوئی رقم واپس کر دوں، تو کیا یہ اقدام شرعاً درست ہوگا یا میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظلم کی مرتکب شمار ہوں گی؟
واضح ہو کہ کوئی شخص جب اپنے ذی رحم محرم کو کوئی چیز ہبہ کرے، اور وہ اس موہوبہ چیز پر قبضہ کرلے، تو اس کی ملکیت اس چیز پر ثابت ہو کر اس میں رجوع کا حق باقی نہیں رہتا،لہذا صورت مسئولہ میں جب سائلہ نے اپنی صحت والی زندگی میں مذکور فلیٹ اپنی اولاد ( بیٹا اور بیٹی ) کے درمیان باقاعدہ حقوق و تصرف دینے کے ساتھ تقسیم کر کے ہر ایک کو مکمل اختیار بھی دے دیا(جیسا کہ سوال سے بھی واضح ہورہا ہے کہ بھائی نے اپنا حصہ اپنی بہن پر فروخت بھی کردیا) تو ان میں سے ہر ایک اپنے حصے کا مالک بن چکا تھا، جس کے بعد جب بیٹی نے اپنے بھائی سے اس کا حصہ بھی باقاعدہ عوض دے کر خرید لیا، تو اب سائلہ کی بیٹی اس پورے فلیٹ کی مالک بن چکی ہے،اگرچہ کاغذات سائلہ کے نام پر ہوں، جس میں اسے ہر طرح کے تصرف کا اختیار حاصل ہے، اس کی رضامندی کے بغیر اسے کچھ رقم دے کر فلیٹ واپس لینا، یا سابقہ ہبہ سے رجوع کرنا شرعا ًدرست نہ ہوگا، البتہ سائلہ کی بیٹی اگر والدہ کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے ایک نئے معاہدہ کے ساتھ موجودہ مارکیٹ ویلیو یا کم قیمت پر اسے فروخت کرنا چاہے تو اسے اختیار حاصل ہے، تا ہم ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
کما فی الدر المختار: (والقاف القرابۃ، فلو وھب لذی رحم محرم منہ) نسباً (ولو ذمیاً أو مستأمنا لا یرجع الخ(باب الرجوع فی الھبۃ، ج 5، ص 704، ط: سعید)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ: ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم، وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لاينفرد الواهب بالرجوع، بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا أو قبل التسليم الخ (كتاب الهبة، الباب الخامس فی الرجوع فی الھبة الخ، ج 4، ص 385، ط: ماجدیۃ)۔
وفی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالایجاب والقبول وتتم بالقبض، صریح ھذہ المادۃ أن القبول رکن أیضاً کالایجاب (إلی قولہ) وفی الدرر شرح الغرر قال الامام حمید الدین: رکن الھبۃ الایجاب فی حق الواھب، لأنہ تبرع فیتم من جھۃ المتبرع، أما فی حق الموھوب لہ فلا یتم إلا بالقبول، ثم لا ینفذ ملکہ فیہ إلا بالقبض الخ(المادۃ 837، ج 3، ص 344،345، ط: اسلامیۃ)۔