کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا کوئی کافر مسلمان کی طرح خیرات کے طور پر چندہ مدرسے کے لئے دے سکتا ہے؟ اور کیا مدرسے کو اجازت ہے کہ وہ اس قسم کی رقم کافر سے وصول کر لے جو وہ اپنی طرف سے دے رہا ہے؟
اگر کسی کافر کے اس قسم کی خیرات سے مقصود مسلمانوں کو اپنے احسان کا ممنون بنانا یا ان پر احسان جتلانا نہ ہو، بلکہ کارخیر میں شرکت مقصود ہو تو متعلقہ مدرسہ وغیرہ کا ایسی خیرات قبول کرنا اور اُسے مدرسہ کے مصارف میں خرچ کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کمافی الدر المختار: وشرطہ شرط سائر التبرعات کحریۃ وتکلیف اھ(4/340)۔
وفی الشامیۃ: بل التقرب بہ موقوف علیٰ نیۃ القربۃ فھو بدونھا مباح حتیٰ یصح من الکافر کالعتق والنکاح اھ(4/339)۔
وفی الھندیۃ: وأهل الذمة في حكم الهبة بمنزلة المسلمين؛ لأنهم التزموا أحكام الإسلام فيما يرجع إلى المعاملات اھ(4/405)۔