کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم چھ بھائی ہیں اور والدین بھی زندہ ہیں ہمارے بڑے بھائی کو ہمارے والد صاحب نے الگ کر دیا ہے۔ وہ اپنی مرضی کی جگہ لے کر ہم سے الگ ہو چکا ہے۔ ہماری زمین کے متصل ہمارے چاچا کی زمین اور مکان ہے، جو ہمارا بھائی خریدنا چاہتا ہے، جبکہ ہم تمام بھائی اس زمین اور مکان پر حقِ شفعہ کا دعویٰ کر چکے ہیں، لیکن جرگہ والے بات کو حل کروانے کے لئے ہماری منت سماجت کر رہے ہیں جس پر ہمارے والد کا کہنا یہ ہے کہ تمام بھائی مل بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کریں یا پھر شریعت کے مطابق فیصلہ کریں بھائی نے جو زمین خریدی ہے اس کی صورت یہ ہے کہ اس نے ہمارے متصل زمین کے عوض میں بائع کو اسی طرح کا مکان بنا کر دینے کا کہا ہے بھائی نے مکان پرقبضہ کر لیا ہے۔ جبکہ ہمارے چچا کے بیٹوں نے اس کے عوض پر قبضہ نہیں کیا اور بیع فسخ کرنے کی صورت میں ایک لاکھ روپے بطور جرمانہ بھی مقرر کیا گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آیا اس طرح کی گئی بیع درست ہے یا نہیں اور بائع اگر ہم سے اسی طرح کے مکان کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کا یہ دعویٰ کرنا کیسا ہے؟ براہِ کرام شریعت کی رو سے اس مسئلے کا حل بتا کر ممنون فرمائیں۔
نوٹ: بھائی جو مکان خریدنا چاہتا ہے وہ ہمارے گھر کی چار دیواری کے اندر ہے جبکہ زمین ہماری زمین کے متصل ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے مذکور بڑے بھائی نے سائل کے گھر کے متصل جو مکان خریدا ہے اور اس کے بدلے میں اپنے چچا زاد بیچنے والے کو اپنی مملوکہ زمین اور اس پر اسی طرح کا مکان تعمیر کرکے دینے کا جو وعدہ کیا ہے اگر چہ یہ صحیح ہے اور اس سے بیع بھی منعقد ہو جاتی ہے۔ خریدار اس جیسے مکان کی قیمت دینے کا ذمہ دار ہوگا، مگر بظاہر یہ خریداری کسی شرکا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔ جبکہ سائل اور اس کے دیگر بھائیوں نے حقِ شفعہ بھی دائر کر دیا ہے۔ اور انہیں اس کا حق بھی حاصل ہے، اس لئے جرگہ والوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے فیصلہ میں اس قسم کے شر انگیز امور کا مکمل خاتمہ کریں۔ جس کی ممکنہ صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یا تو اس عقد کو فسخ کر کے مذکور چچا زاد کو اپنی مملوکہ چیز میں آبادی رکھنے کا پابند کریں ۔ یا پھر اس کا کمرہ اور زمین سائل اور اس کے دوسرے بھائیوں پر فروخت کروادیں۔ جبکہ مبلغ ایک لاکھ روپے جرمانہ کی شرط فاسد اور غیر معتبر ہے اس کے لینے دینے سے احتراز لازم ہے۔
کمافي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: بل إن الشرع صحح بيع المعدوم في بعض المواضع، فنره أجاز بيع الثمر بعد بدء صلاحه، والحب بعد اشتداده، ومعلوم أن العقد إنما ورد على الموجود والمعدوم الذي لم يخلق بعد. وعلى هذا فبيع المعدوم إذا كان مجهول الوجود في المستقبل باطل للغرر لا للعدم، فالأصل إذن هو الغرر اھ (5/ 3401)
وفي المبسوط للسرخسي: وإذا اشترى دارا بدار ولكل واحدة منهما شفيع فلكل شفيع أن يأخذ الدار بقيمة الأخرى؛ لأنه لا مثل للدار من جنسها، فيكون الواجب على كل شفيع بمقابلة ما يأخذ قيمة الدار الأخرى اھ (14/ 132)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1