کیا فرماتے علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرا ایک رہائشی پلاٹ ہے جو کہ ۲۴۰ گر رقبہ اور چار کمروں پر مشتمل ہے، میں اس پلاٹ کو اپنی اولاد کو ہبہ کرنا چاہتا ہوں ، میرے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، کیا مذکورہ پلاٹ میں ان تمام کو مشترکہ طور پر برابر ہبہ کر سکتا ہوں کہ نہیں؟
سائل کا مذکور عمل جائز اور درست ہے اور اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ بقدرِ ضرورت اپنی رہائش کی جگہ چھوڑ کر باقی اپنی تمام اولاد یعنی بیٹے اور بیٹیوں میں برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا جائے تاکہ وہ شرعاً بھی اپنے اپنے حصہ کے مالک کہلا سکیں۔ البتہ اگر شخصِ مذکور کسی بیٹے یا بیٹی کی محتاجگی ، خدمت گزاری یا دینداری و غیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے کچھ زیادہ بھی دے دے تو اس کی گنجائش ہے، مگر مالکانہ قبضہ دینا اس صورت میں بھی شرط ہے ۔
کما فى الدر المختار : (و تتم)الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به)(5/690)۔
و في الهندیۃ : و لو وهب رجل شيأ لاولاده فى الصحة و أراد تفضيل البعض على البعض (الى قوله)لا بأس به اذا لم يقصد به الاضرار سوى بينهم يعطى الابنة مثل ما يعطى للابن و عليه الفتوى الخ (4/391)۔
و فى بدائع الصنائع : و ينبغي للرجل أن يعدل بين اولاده في النحلى لقوله سبحانه و تعالى (إن الله يأمر بالعدل و الاحسان)اهـ (6/127)۔