کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اور مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ " الف، ب اور ج " تین بھائی ہیں، " ب "" الف " کو ایک مکان ہبہ کرنا چاہتا تھا، اور اس نے یہ الفاظ بولے کہ "ب" میں آپ " الف " کو فلاں مکان ہبہ کرنا چاہتا ہوں، آپ اس مکان کی رجسٹری وغیرہ کے کاغذات " ج" سے لیکر اپنے نام ٹرانسفر کروالینا، اور رجسٹری کے تمام تر اخراجات آپ کو برداشت کرنے ہوں گے ، مگر "الف" نے "ب " کی اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا، نہ صراحتاً اور ناہی کنایۃً، بلکہ خاموش رہا، اور نہ ہی " ج " کو بولا کہ وہ کاغذات مجھے دے دو ، میں نام ٹرانسفر کرواتا ہوں، بس تھوڑی دیر خاموش بیٹھنے کے بعد اس مجلس سے ُاٹھ کر چلا گیا،پھر کچھ عرصہ بعد ایک اور مجلس میں جب یہ تینوں اکٹھے ہوئے، تو " ب " نے " الف " کو بولا کہ آپ کو ایک چانس دیا تھا، آپ نے وہ ضائع کر دیا اور اب وہ بات ختم ہو گئی ہے ، اس پر بھی اس مجلس میں "الف" نے کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ خاموش رہا،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ "الف " کا اس پہلی مجلس میں ہبہ قبول کرنا ضروری تھا یا نہیں؟ اور یہ کہ قبولِ ہبہ کی صراحت ضروری ہے یا کنایۃً قبول کرنے سے بھی ہبہ تمام ہو جاتا ہے؟ اب اگر وہ یعنی "الف" یہ کہے کہ یہ مکان مجھے ہبہ ہو گیا ہے، اور میں اس کا مالک ہوں، از روئے شرع شریف درست ہے یا نہیں؟ براہِ کرم راہ نمائی فرمادیں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق "ب" نے " الف " کو مذکور مکان کے متعلق جو الفاظ کہے تھے کہ " میں آپ کو فلاں مکان ہبہ کرنا چاہتا ہوں، اور پھر وہ مکان عملاً اس کے حوالہ نہیں کیا، تو ان الفاظ میں چونکہ فقط مکان ہبہ کرنے کے ارادہ کا اظہار ہے، باقاعدہ طور پر ہبہ نہیں پایا جاتا، اس لئے مذکور مکان کا ہبہ شرعاً درست نہیں ہوااور نہ ہی اس سے "ب " اس مکان کا مالک بنا، لہذا اب "ب" کا مذکور مکان پر اپنی ملکیت کا دعوی کر نا بھی درست نہیں، جس سے اسے احتراز لازم ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك كمن دفع لفقير شيئا وقبضه، ولم يتلفظ واحد منهما بشيء، وكذا يقع في الهداية ونحوها فاحفظه، ومثله ما يدفعه لزوجته أو غيرها قال: وهبت منك هذه العين فقبضها الموهوب له بحضرة الواهب ولم يقل: قبلت، صح لأن القبض في باب الهبة جار مجرى الركن فصار كالقبول ولوالجية. و في شرح المجمع لابن ملك عن المحيط: لو كان أمره بالقبض حين وهب لا يتقيد بالمجلس ويجوز قبضه بعده (5/ 688)۔
و في شرح المجلة للاتاسى : مادة ٨٦١: يملك الموهوب له الموهوب بالقبض . (ص: (١٦٦)۔
و في ملتقى الأبحر: هي تمليك عين بلا عوض وتصح بإيجاب وقبول، وتتم بالقبض الكامل اھ (ص: 489)۔
و في قواعد الفقه : لا يتم التبرع الا بالقبض اھ (ص ۱۰۸ ق، ۲۶۲) ۔