کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام ڈراپ شپنگ کے آن لائن کاروبار سے متعلق کہ جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ فروخت کرنے والے کے پاس فی الحال مال موجود نہیں ہوتا، بلکہ خریدار کے آرڈر کرنے پر وہ کسی اور سے مال خرید کر خریدار کے پتہ پر روانہ کرتا ہے، یعنی فروخت کرنے والے کا مال سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا، لیکن وہ خریدار کو اس بات کا اطمینان ضرور دلاتا ہے کہ اگر اسے مال پسند نہیں آیا، تو اتنے دنوں میں مال واپس بھی کیا جاسکتا ہے، میر اسوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں جبکہ فروخت کرنے والے کے پاس کوئی مال موجود نہ ہو ، تو ایسا کاروبار کرنا یا اس سے منافع کمانا شرعاً کیسا ہے؟
جو چیز ابھی ملکیت میں نہ ہو اس کی خرید و فروخت جائز نہیں، البتہ اس کو فراہم کرنے کا وعدہ کیا جا سکتا ہے، لہذا مسئولہ صورت میں بھی مذکور عقد کی حیثیت شرعاً وعدۂ بیع کی ہے، چنانچہ سائل کے پاس اگرچہ فی الحال پروڈکٹ موجود نہ ہو، لیکن آرڈر موصول ہونے پر سائل اس کی فراہمی کا وعدہ کرنے کے بعد کسٹمر کو موقع پر وہ چیز فراہم کر دیتا ہو، تو ایسی صورت میں یہ معاملہ شرعاً درست شمار ہو گا، اور ایسا کرنے میں شرعاً بھی کوئی حرج نہیں۔
كما في فقه البيوع للعثماني : الوعد والمواعدة بالبيع ليس بيعاً ولا يترتب عليه آثار البيع من نقل ملكية المبيع ولا وجوب الثمن، واذا وقع الوعد أو المواعدة على شراء شئی أو بیعه بصیغة جازمة وجب علی الواعد دیانة أن یقی به ، ویعقد البیع حسب وعده ولکنه لا یجبر علی ذلك قضاءً اھ(1137/2)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1