السلام علیکم! میرا کریانہ اسٹور ہے قادیانی میرے گاہک ہیں ان کی پروڈکٹ میں نے نہ بیچی اور نہ خریدی ،ان کو سامان ضروریہ بیچتا ہوں ،گاہک ہونے کے ناطے ادھار بھی دیتا ہوں، شبان ختم نبوت کے احباب کا کہنا ہے کہ یہ غلط ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں بالتفصیل جواب درکار ہے، میں خود جامعہ خیر المداس کا فاضل ہوں اطمینان نہیں ہوپارہا کافی ٹینشن کا شکار ہوگیاہو۔
واضح ہو کہ قادیانی آئین پاکستان کی روسے متفقہ طور پر کافرہیں،جس کی وجہ سے ان کےلیے خود کو مسلمان کہلوانا یا ایسا کوئی کام کرنا جس سے ان کا مسلمان ہونا معلوم ہو ممنوع ہے،لیکن اس سب کے باوجود قادیانی اپنے خبث باطن کی وجہ سے نہ تو اپنے آپکو کافر سمجھتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کی شناخت ترک کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ زندیق کے زمرے میں داخل ہیں ،لہذا اولاً تو ان کے ساتھ دیگر عام مسلمانوں کی طرح لین دین کرنے سے احتراز لازم ہے،البتہ انسانیت کے ناطے انہیں اشیاء ضروریہ فروخت کرنا اگرچہ ممنوع نہیں،لیکن ان کے ساتھ ادھار خریدوفروخت کرنے کی صورت میں دیگر مسلمانوں کی طرح ان پر ایک گونہ اعتماد کی علامت ہے جوفتنہ کاباعث بن سکتی ہے،اس لئے ان کے ساتھ لین دین کو فقط نقدکی حدتک محدود رکھنازیادہ بہتر ہے۔
کما فی احکام القران للجصاص: قولہ تعالیٰ (و لا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار)والرکون الی الشئی ھو السکون الیہ بالانس والمحبۃ فاقتضی ذلک النھی عن مجانسہ الظالمین و موانستھم الخ (سورۃ ھود،ج: 3، ص: 166، ط: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وفی الھدایۃ: وما باعہ أو اشتراہ أو اعتقہ أو وھبہ أو رھنہ أو تصرف فیہ من أموالہ فی حال ردتہ فھو موقوف، فإن أسلم صحت عقودہ وإن مات أو قتل أو لحق بدار الحرب بطلت الخ (باب احکام مرتدین، ج: 2، ص: 285، ط: البشریٰ)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1