عرض یہ ہے کہ ۲۰۱۷ ء میں میری زوجہ محترمہ کا انتقال ہوا، جو کہ گورنمنٹ اسکو ل ٹیچر تھی، میری تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ، جو واجبات گورنمنٹ سے ملے تھے ان سب کی رضامندی سے میرے hand over ہوئے، پھر ان تمام واجبات سے اور میری جمع پونجی سے میں نے اپنے دو بچوں ( ایک بیٹا اور ایک بیٹی ) کی شادی کی ، جبکہ دو بچیاں پہلے سے شادی شدہ تھیں، میں اس وقت بہت بیمار ہوں ہاتھ پاؤں میرے کام نہیں کر رہے ہیں میرا بائی پاس دو سال پہلے ہوا تھا، اس وقت میری تیمار داری میری دو بیٹیاں کر رہی ہیں، میں اپنا گھر بار اور تمام ساز و سامان چھوڑ کر اپنی بیٹی کے گھر اپنے بیٹے کی نافرمانی کی وجہ سے آگیا ہوں، میری ریٹائرمنٹ کے پیسوں کا اور میری باقی جمع پونجی کا میرے باقی دو بچے حساب مانگ رہے ہیں ( ایک بیٹا اور ایک بڑی بیٹی ) شریعت کی رو سے بتائیں کہ اب جو کچھ بھی میرے پاس ہے یہ دونوں حساب مانگنے کا حق رکھتے ہیں ، یا وہ پیسے میں اپنی بیماری پر خرچ کر سکتا ہوں یا ان دو بچوں کو حساب دوں ؟
میر ادوسر امسئلہ یہ ہے کہ میرا ایک مکان جو کہ میری زوجہ کے نام ہے ، اور ایک زمین گلشن کنیز فاطمہ میں وہ بھی میری زوجہ کے نام ہے میں ان دونوں کو بیچ کر اب ان سب میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں، مگر میری بیٹی اور میرا بیٹا یہ کہہ رہے ہیں کہ میری بیوی کے انتقال سے لے کر اب تک جو بھی ہم دونوں میاں بیوی کے واجبات ہیں ، ان تمام کا حساب دیں ورنہ یہ مکان ہم بیچنے نہیں دیں گے ، جبکہ دو بیٹیاں اور میں یہ مکان بیچنا چاہتے ہیں ، تاکہ میں اپنی زندگی میں اپنے فرض سے سرخرو ہو جاؤں، برائے مہربانی مسئلے کا جواب دیں اور مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں؟ فقط
سائل کے بیٹے اور بیٹی کا سائل سے تمام واجبات کا حساب مانگنا تو درست نہیں، بلکہ یہ والد کے ساتھ بد اخلاقی اور بد تمیزی ہے جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہے ہیں ان دونوں پر لازم ہے کہ اپنے اس رویّے کو درست کر کے والد سے دست بستہ معافی مانگ لیں تا کہ وہ مواخذۂ دنیوی واخروی سے سبکدوشی حاصل کر سکیں، البتہ بچوں کو یہ حق ہے کہ وہ والدہ مرحومہ کا ترکہ تقسیم کرنے کی والد سے مناسب طریقے سے بات کریں ، اور سائل کو بھی چاہیئے کہ زوجہ مرحومہ کی ذاتی ملکیت میں جو اشیاء تھیں ان کے وارثوں میں تقسیم کر کے اپنے ذمہ سے اس فرض کو اتار دیں اس کے بعد سائل اپنی مرضی سے اپنی جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو یہ بھی جائز ہے، مگر یہ لازم نہیں اور نہ ہی کوئی وارث اس کا مطالبہ کر سکتا ہے، اس لئے کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے پہلے اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے ،، اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں۔ اب اگر کوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلا کسی جبر واکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال و جائیداد وغیرہ اپنے متعلقین میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ بھی جائز ہے ، اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے ، لہذا اگر سائل بھی اپنی مرضی وخوشی سے اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو یہ بھی شرعاً جائز اور درست ہے ، اور اس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل ایک محتاط اندازے کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال وجائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر فرد کو اس کے حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تا کہ یہ ہبہ شرعا بھی درست اور تام ہو جائے، محض کاغذوں میں نام کر دینا کافی نہیں، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں کسی کو کم یاکسی کو زیادہ نہ دے البتہ کسی کی خدمت گذاری ، محتاجی یا دین داری و غیرہ کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلے کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے مگر بلا وجہِ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
ففي سنن الترمذي: عن عبد الله بن عمرو، عن النبي [ص:311] صلى الله عليه وسلم قال: «رضى الرب في رضى الوالد، وسخط الرب في سخط الوالد» (4/ 310)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله من حيث الأمانة) فإن مال أحد الشريكين أمانة في يد الآخر، كما أن مال المفقود أمانة في يد الحاضر بحر (4/ 298)۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔
وفيه ايضاً : و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم اھ (5/ 696)۔