جناب عالی! عرض ہے کہ فدوی نے دو مکانات 80، 80 گز پر مشتمل خرید کر ایک اپنی شریک حیات اور دوسرا اپنے نام پر لیز کرایا تھا، فدوی کے چھ بچے مع ایک لڑکی تمام شادی شدہ اور پانچوں بیٹے برسر روز گار ہیں ، فدوی اپنے مکان جس کی مالیت موجودہ وقت کے لحاظ سے نو لاکھ (900000) روپے ہے کو اپنے پانچ بیٹوں، ایک بیٹی اور اپنی بیوی کے درمیان شرعی لحاظ سے تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ رقم کی تقسیم شرعی لحاظ سے تقسیم کر کے ہر ایک کا حصہ بتا دیں۔
(نوٹ) فدوی کی بیوی جس کے نام دو سرا مکان ہے، بیٹی کے ساتھ اور فدوی سے گھریلو ناچاقی کی بناء پر عرصہ 3 سالوں سے الگ رہائش پذیر ہے اور مذکور مکان مالکانہ حقوق کے ساتھ دے چکا ہوں۔ فدوی خود اپنے حصے میں کچھ رقم رکھنا چاہتا ہے۔
جاننا چاہئیے کہ کسی شخص کا اپنی صحت والی زندگی میں اپنی جائیداد کو اپنے ورثاء میں تقسیم کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے ،اور یہ شرعاً تقسیمِ میراث نہیں بلکہ ہبہ کہلاتا ہے،اب اگر سائل بغیر کسی جبر اکراہ کے محض اپنی مرضی سے جا ئیداد تقسیم کرنا چاہتا ہو تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے ،وہ کچھ رکھ کر بقیہ جائیداد کو اپنے ورثاء میں چاہے ان میں سے کسی ایک کو پہلے بھی کچھ دیا ہو یا نہ ان میں برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کا حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے ،تاکہ وہ شرعاً بھی اس کا مالک بن سکے ، محض کاغذوں میں نام کر دینا کافی نہیں ہوگا، البتہ کسی اولاد وغیرہ کو اس کی دین داری خدمت گزاری یا اس محتا جگی کی بناء پر دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے مگر بلا وجہ کسی کو بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے ۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» (4/ 444)۔
و في الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى اھ (5/ 696)۔
و فى الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض (إلی قوله) لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار كذا في الظهيرية اھ (4/ 391)۔
و في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها وإ ن شاغلا لا، (5/ 690)۔