کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ،علی گل کا نکاح 2008 کو ہوا تھا، اس وقت علی گل کے پاس اپنا ذاتی مکان نہیں تھا، اس کی شادی ہونے کے بعد اس کی بیوی کو اس کے والد نے ایک مکان دیا، اور مالکانہ حقوق بھی دے دیے ، علی گل اپنی اہلیہ کے ساتھ اس گھر میں شفٹ ہو گئے، اور وہیں رہتے رہے ، کچھ سالوں کے بعد علی گل کی اہلیہ نے علی گل کو وہ مکان ہبہ کر کے دیدیا، اور کہا کہ یہ تمہارا ہے، اور اس کے نام بھی کر دیا سرکاری دستاویزات میں ،اب پچھلے سال علی گل کی اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے، اور اس کی کوئی اولاد نہیں، اب آپ حضرات سے معلوم کرنا ہے کہ کیا مذکور گھر علی گل کی ملکیت میں آچکا ہے،یا یہ بھی ترکہ میں شامل ہو کر دیگر ورثہ میں تقسیم ہو گا ، جواب دے کر ممنون و مشکور فرمائیے گا، جزاک اللہ ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مرحومہ کے والد نے مکان مرحومہ کو ہبہ کر کے اس کو مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ دے دیا تھا، اس کے بعد مرحومہ نے اپنے شوہر علی گل کو مذکور مکان ہبہ کر کے اسے باقاعدہ مالکانہ قبضہ دے دیا ہو جیسا کہ سوال سے یہی معلوم ہو رہا ہے تو وہ مکان اب علی گل کی ملکیت بن چکا ہے، لہذا اس میں مرحومہ کے دیگر ورثاء کا کوئی حصہ نہیں۔
کما في المحيط البرهاني في الفقه النعماني: و في «فتاوي أبي الليث» : وهبت المرأة دارها من رجل هو زوجها وهي ساكنة فيها ولها أمتعة فيها والزوج ساكن معها يصح؛ لأنها مع ما في يدها من الدار في يد الزوج فكانت الدار في يد الواهب معنى فصحت الهبة. (6/ 242)۔
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق: (قوله وشمل ما إذا كانت دارا مشغولة بمتاع الأب إلخ) قال الرملي وكذا إذا وهبت المرأة دارها لزوجها وهي ساكنة فيها ولها أمتعة فيها والزوج ساكن معها حيث يصح كما في التجنيس. اهـ. (7/ 288)۔