کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسماۃ گل ناز اور شوہر مسمی غلام فاروق کے نکاح کو دس سال گزرچکےہیں، اب تقریباً آٹھ نو ماہ پہلے ہماری لڑائی جھگڑا ہوا، اور میں نے اپنے شوہرسے طلاق کا مطالبہ کیا، کچھ اصرار کے بعد انہوں نے کہا ”ایک،دو،تین ،تم میری طرف سے آزاد ہو“ اس وقت میں حمل سے تھی، اور اب بچی پیدا ہوچکی ہے، تو کیا ایسی صورت میں طلاق ہوگئی ہے یانہیں ؟ اگر ہوگئی ہے، تو دوبارہ ازدواجی حیثیت سے ساتھ رہنا چاہیں تو اس کا کیا طریقہ ہوگا؟
واضح رہے کہ ایک ،دو، تین کی اصل وضع گنتی کیلئے ہے ،جن سے طلاق کی گنتی بھی کی جاسکتی ہے اور غیر طلاق کی بھی، یہ الفاظ بذات خود طلاق دینے کیلئے موضوع نہیں ہیں، اس لئے محض اعداد کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ،بلکہ ان سے طلاق واقع ہونے کیلئے دو شرائط کا پایا جانا ضروری ہے :
1. یا تو یہ الفاظ طلاق کے لفظ کے ساتھ مقرون ہوں، یعنی ان کے ساتھ طلا ق کا کوئی ایسا لفظ بولا جائے جو ان اعداد کا معدود بننے کی صلاحیت رکھتا ہو،مثلا ً یہ کہا جائے ’’تجھے دو طلاق ‘‘
2. یا ان اعداد کے ساتھ کوئی ایسا لفظ ہو جس سے ان اعداد کی صراحۃ ً اضافت بیوی کی طرف ہو، مثلاً یہ کہے ’’تجھےمیری طرف سے ایک دو تین ‘‘چنانچہ اس صورت میں تجھے کی اضافت کی وجہ سے ان اعداد کا حکم کنایات طلاق کا ہوگا، اس صورت میں طلاق کے وقوع کیلئے بھی دو شرائط کا ہونا بھی لازم ہے،
(1) پہلا یہ ہے کہ یہ اعداد طلاق کی نیت سے کہے جائیں ،تو اس میں جتنے اعداد ذکر کیے جائیں تو اتنی طلاقیں واقع ہوجائیں گی ۔
(2) یہ الفاظ غصہ کی حالت یا مذاکرہ طلاق میں بولے جائیں، اس میں طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو، پھر بھی طلاق واقع ہوجائے گی ۔
اگر یہ دونوں شرطیں نہ پائی جائیں، بلکہ صرف یہ اعداد ذکر کردیئے جائیں تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
اس تمہید کے بعد واضح ہو کہ اگر سائلہ کا بیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی ااور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو،اور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے مطالبہ طلاق کے جواب میں مذکور جملہ ”ایک ،دو،تین ،تم میری طرف سے آزاد ہو“کہے ہوں، ”تو ایک ،دو، تین“ سے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ اس کے بعد والے جملہ ” تم میری طرف سے آزاد ہو“ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی، اور شوہر نے دوران عدت ( وضع حمل ) سے پہلے رجوع نہ کیا ہوتو وضع حمل پر سائلہ کی عدت مکمل ہوکر وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
تاہم اگر سائلہ اور اس کا شوہر دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے ، مگر اس کے لئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرکے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا ، البتہ تجدید نکاح کے بعد سائلہ کے شوہر کے پاس آئندہ کے لئے دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الشامیۃ تحت (قوله وركنہ لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كنایة فيخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبینۃ وإشارة الأخرس، والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا، الخ (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 230، ط: سعید)۔
و فی التاتارخانیۃ: ولو قال لھا أنت مني ثلاث إن نوى الطلاق طلقت، وإن قال لم أنو الطلاق لم يصدق إذا كان الحال حال مذاكرة الطلاق الخ (کتاب الطلاق، فصل الرابع، إیقاع الطلاق بطریق الإضمار ، ج: 4، ص: 419، ط: رشیدیہ)۔
و فی رد المحتار: فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (کتاب الطلاق، ج:3،ص:299، ط: سعید)۔
وفی الدر: وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيھا لاشتباه النسب الخ (باب الرجعۃ، ج: 3، ص: 409، ط: سعید)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0