ہدیہ

والد کا ایک بیٹے کو اپنی کچھ جائیداد الگ سے دینا

فتوی نمبر :
84235
| تاریخ :
2025-07-15
معاملات / مالی معاوضات / ہدیہ

والد کا ایک بیٹے کو اپنی کچھ جائیداد الگ سے دینا

میں احسان الحق ولد فضل حق کراچی شہر بخشی سکوائر کا رہائشی ہوں، وہاں میرا ذاتی فلیٹ ہے، میرا شناختی کارڈ نمبر9-1926396-42101 یہ ہے، میں 85 برس کا ہو گیا ہوں ،کوئی کام کاج نہیں کر سکتا لہذا میں اپنے چھوٹے بیٹے انعام الحق ولد احسان الحق کے ساتھ رہتا ہوں ،وہ میری خدمت کرتا ہے میرا سارا خرچہ اس کے ذمے ہے میں نے کچھ عرصہ پہلے انعام بیٹے سے 30 لاکھ کی رقم کاروبار کے لیے لی تھی جو تا حال میں اس کو واپس نہیں دے سکا ،لہذا اب میں انعام بیٹے کی کفالت میں ہوں، وہ مجھے اپنے پاس رکھتا ہے ،میں اپنا فلیٹ بطور گفٹ اپنے چھوٹے بیٹے انعام کو اپنی مرضی سے دینا چاہتا ہوں، تو شرعی اعتبار سے اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے ؟ باقی بیٹیوں کو میں اپنی دکان جو کہ اب میں کسی کو دے چکا ہوں، اس میں جو مال ہے اس کی رقم بیٹیوں کو تقسیم کروں گا، اپنی حیثیت کے مطابق سب سے بڑی بیٹی بشریٰ زوجہ محمود الحسن شناختی کارڈ نمبر 0-1573688-42201 یہ ہے ،میں اپنی حیثیت کے مطابق دے چکا ہوں، شرعی اعتبار سے میری رہنمائی فرمائیے کہ یہ غلط تو نہیں ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے، کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے،البتہ اگرکوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلاجبرواکراہ محض اپنی مرضی وخوشی سےاپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیارہے، اوریہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائیگا،جس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اگربیوی کو کچھ دینا چاہےوہ انہیں دیکر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد (بیٹوں، بیٹیوں) کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعابھی درست اور تام ہوسکے، محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے، مگربلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے، کہ گناہ کی بات ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں بھی سائل اگر اپنے بیٹے انعام کو اس کی خدمت گزاری کی بناء پر اپنا فلیٹ بطور گفٹ دینا چاہتا ہے تو بیٹے کی طرف سے دیے جانے والے قرض کے بدلے شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : متی وقف حآل صحتہ وقال علی فرضیۃ الشرعیۃ قسم علی ذکورھم واناثھم بالسویۃ ھو المختار المنقول عن الاخیار کما حققہ مفتی دمشق یحی ابن المنقار فی ال؎رسالۃ المرضیۃ علی الفرضیۃ الشرعیۃ الخ
وفی الشامیۃ تحت :(قولہ کما حققہ مفتی دمشق الخ) أقول حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: اتقوا الله واعدلوا في أولادكم، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل الخ (کتاب الوقف، ج4، ص444، ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ : و منھا أن یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض وأن یکون الموھوب مقسوماً إذا کان مما یحتمل القسمۃ وأن یکون الموھوب متمیزاً عن غیر الموھوب ولا یکون متصلا ولا مشغولا بغیر الموھوب حتی لو وھب أرضاً فیھا زرع للواھب دون زرع أو عکسہ أو نخلاً فیھا ثمرۃ للواھب معلقۃ بہ دون الثمرۃ أو عکسہ لا تجوز وکذا لو وھب داراً أو ظرفاً فیھا متاع للواھب کذا فی النھایۃ الخ ( کتاب الھبۃ، ج4، ص374، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً : ولو وھب رجل شیئا لاولادہ فی الصحۃ وأراد التفضیل البعض علی البعض فی ذالک لا روایۃ لھذا فی الاصل عن أصحآبنا وروی عن أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی أنہ لا بأس بہ إذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین وإن کانا سواء یکرہ وروی المعلی عن أبی یوسف رحمہ اللہ تعالی أنہ لا بأس بہ أذا لم یقصد بہ الإضرار وإن قصد بہ الاضرار سوّی بینھم یعطی الابنۃ مثل ما یعطی للإبن وعلیہ الفتوی ھکذا فی فتاوی قاضیخان الخ ( الباب السادس فی الھبۃ الصغیر، ج4، ص391، ط: ماجدیۃ)۔
و فی شرح المجلۃ : تنعقد الھبۃ بالإیجاب والقبول وتتم بالقبض الخ
و تحت ھذہ المادۃ : واعلم أن المراد بالقبض الذی تتم بہ الھبۃ ھو القبض الکامل، وھو فی المنقول ما یناسبہ فقبض مفتاح الدار قبض لھا الخ ( کتاب الھبۃ، ج3، ص 344، رقم مادۃ 837، ط: اسلامیۃ)۔
و فیہ ایضاً: کل یتصرف فی ملکہ کیف شاء لکن إذا تعلّق حق الغیر بہ یمنع المالک من تصرفہ الخ ( فصل فی بیان بعض القواعد ،ج4، ص 132، ط: حقانیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
انعام اللہ حمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84235کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی کو ہدیہ یا گفٹ کرنے کا شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ہدیہ 1
  • کیا کسی ہندو کا تحفہ قبول کیا جاسکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   ہدیہ 0
  • کوئی چیز ہبہ کر کے واپس لینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • طلاق کے بعد شوہر کونسے گفٹ واپس لے سکتاہے؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا کسی ایک بیٹے کو ہدیہ دینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 3
  • قبضہ دیے بغیر , فقط کاغذات میں مکان نام کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • ماں کے لئے اپنی اولاد میں سے کسی ایک بیٹے کو گھر ہدیہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اپنی اولاد کے درمیان زندگی میں تقسیمِ جائیداد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • انٹرسٹ فری پراویڈنٹ فنڈ میں ملنےوالی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بیٹے کو ہبہ کردہ مکان میں بیٹیوں کے حصہ کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا بیٹوں کو گھر ہدیہ کرنے کے بعد بیٹیوں کا اس میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • باپ کے لئے تمام اولاد کے ساتھ برابری کا معاملہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم اور طریقۂ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • کیا زندگی میں اپنے بہن بھائیوں اور ان کی اولاد میں جائیداد تقسیم کی جا سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • بیوی کے لیے شوہر کو ہدیہ کئے ہوئے سونے کا استعمال جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد مرحوم کی جانب سے زندگی میں دی جانے والی چیز میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بڑے بیٹے نے ماں کے ساتھ رہتے ہوئے, ماں کے پلاٹ پر گھر تعمیر کیا

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • نکاح میں بیوی کو شوہر کی جانب سے دیے گئے تحفوں کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • قادیانی کمپنی کی تشہیری مہم میں شریک ہو کر گرانٹ وصول کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اولاد کے درمیان اپنی زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بہن کے لئے بھائی سے والد کی طرف سے دی گئی جائیداد میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • مکان کی رقم اولاد کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں اولاد کے درمیان تقسیمِ جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات