السلام علیکم ورحمۃالله وبركاتہ !
زید نے عمر کو وکیل بنا کر مارکیٹ سے اس سے کوئی چیز منگوائی، جسکی اصل قیمت سو روپے تھی، لیکن وہ چیز عمر کو اسی روپے میں ملی تو کیا عمر زید سے سو روپے لے سکتا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں جب زید نے عمر کو سو (100)روپے دے کر مارکیٹ سے کوئی چیز خریدنے کا وکیل بنایا ،اور اس چیز کی اصل قیمت سو روپے تھی ،لیکن عمر نے وہ چیز اسی (80)روپے میں خرید کر لائی ،تو ایسی صورت میں عمر پر لازم ہے کہ وہ بچی ہوئی رقم بیس(20) روپے زید کو واپس کرے ، کیونکہ عمر کی حیثیت اس سودا میں وکیل کی ہے ،اور وکیل امین ہوتا ہے ،چنانچہ اگر اس نے ابتداءً اپنے اس عمل کی کوئی فیس مقرر نہ کی ہو تو بعد میں وہ موکل (زید) کی اجازت کے بغیر بچ جانی والی رقم اپنے استعمال میں نہیں لا سکتا ،بلکہ اس کا زید کو وہ رقم واپس کر دینا لازم اور ضروری ہو گا۔
کما فی الھندیۃ: و لو وکلہ بشراء جاریۃبألف درھم فالشتری جاریۃ بثمانمائۃ و مثلھا یشتری بالف فھو للموکل کذا فی اللبدائع الخ (الباب الثانی فی توکیل بالشراء ج:3، ص:573،ط: ماجدیۃ)۔
و فی شرح المجلۃ: (المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان. والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة) الخ( كتاب الوكالة، الباب الثالث في بيان أحكام الوكالة، ج: 2،ص: 432،ط:مكتبة رشيدية)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1