اسلامی تعلیمات کے روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔ میں نے ایک شخص کو آڑو کا ایک باغ تیار فصل 80000 پاکستانی روپے میں فروخت کیا اس رقم میں 30000ایڈوانس اور 50000 فصل کے فروخت پر واجب الادا ہونا تھی ۔معاہدے کے رو سے آڑو باغ سے مارکیٹ تک پہنچانا اور فروخت کرنا بمعہ تمام اخراجات خرید کنندہ کے ذمہ دار ی تھی۔ اب اس نے تمام تیار فصل مارکیٹ میں فروخت کیاہے اور کہہ رہا ہے۔ کہ مارکیٹ میں میں نے نقصان کیا ہے۔ باقی رقم آپ کو شریعت کے رو سے ادا کرنے کا پابند نہیں ہوں۔ شریعت اسلامی میں اس کا کیا حل موجود ہے ؟
واضح رہے کہ جب فریقین کے درمیان ، خرید و فروخت کا معاملہ کرتے وقت زبانی یا تحریری طور پر ایجاب و قبول ہوجانے کے بعد فروخت کردہ چیز خریدار کے حوالے کردی جائے اس طور پر کہ وہ اس میں اپنی منشاء و مرضی کے مطابق تصرّف کا مجاز ہو تو اس سے بیع مکمّل ہو کر خریدار اس چیز کا مالک بن جاتا ہے اور اس کے نفع و نقصان کی ذمہ داری اسی کی طرف منتقل ہوجاتی ہے ، اس کے بعد فروخت کنندہ کو بھی اس میں شامل کرنا اور اس پر تاوان ڈالنا جائز نہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب فریقین کے درمیان معاملہ مکمّل ہوچکا ہے اور خریدار باقاعدہ پھل توڑ کرمارکیٹ میں اپنی مرضی کے مطابق فروخت بھی کرچکا ہے تو اب اس میں ہونے والے نقصان کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی ، اس کا یہ نقصان سائل پر ڈال کر اس کی بقیہ رقم کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا شرعاً ناجائز اور قانوناً جرم ہے ، جس پر سائل کو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل ہوگا۔
کما فی الدر المختار:(وإذا وجدا لزم البيع) بلا خيار إلا لعيب أو رؤية الخ(کتاب البیوع ج4 ص506 ط: سعید)۔
و فی الفتاوى الهندیة: رجل اشترى بقرة، فقال للبائع: سقها إلى منزلك حتى أجيء خلفك إلى منزلك وأسوقها إلى منزلي، فماتت البقرة في يد البائع، فإنها تهلك من مال البائع، فإن ادعى البائع تسليم البقرة كان القول قول المشتري مع يمينه. اشترى دابة مريضة في إصطبل البائع، فقال المشتري: تكون هنا الليلة، فإن ماتت ماتت لي فهلكت، هلكت من مال البائع لا من مال المشتري كذا في فتاوى قاضي خان.الخ(الفصل الثاني في تسليم المبيع وفيما يكون قبضا الخ ج3 ص20 ) ط: رشيديه)۔
وفی شرح المجلۃ للاتاسی:(المادة 263) تسليم المبيع يحصل بالتخلية ۔۔۔۔وهو أن يأذن البائع للمشتري بقبض المبيع مع عدم وجود مانع من تسليم المشتري إياه۔۔۔۔۔(المادة 264) متى حصل تسليم المبيع صار المشتري قابضا له : یعنی متی وجدت التخلیۃ علی الوجہ المذکورفی المادۃ السابقۃ،صار المشتری قابضا وان لم یقبضہ حقیقۃ،لان تمکنہ من القبض بأذن البائع مع عدم المانع والحائل قائم مقام القبض الحقیقی ،فلوھلك المبیع ھلك علی المشتری لدخولہ فی ضمانہ الخ(الباب الخامس ، الفصل الاول فی بیان حقیقۃ التسلیم الخ ج2 ص192 ط: رشیدیۃ باکستان)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1