کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ پہلے میں مسمٰی ۔۔۔ نے ۔۔۔۔سے گوادر میں ایک زمین کے ۱۲.۵ فیصد شیئرز ڈھائی سال پہلے خریدے تھے، پینسٹھ لاکھ (6500000) روپے میں ، اس زمین پر ایک پروجکٹ بنانا تھا، جو اس ڈھائی سال میں نہیں ہو پایا ، بہر حال اب مسمی ۔۔۔چاہ رہا ہے کہ میں اپنے شیئرز انہیں واپس فروخت کروں ،جس پر میں متفق ہوں، مگر میں اپنے شیئرز کی قیمت اب ایک کروڑ تیس لاکھ میں بیچنا چاہ رہا ہوں ، مسمی ۔۔۔کہہ رہے کہ 65 لاکھ سے زیادہ لینا میرے درست نہیں اور یہ شاید سود ہے، آپ حضرات سے معلوم کرنا ہے کہ کیا میرا اپنا شیئرز سابقہ قیمت سے زیادہ میں فروخت کرنا سود ہے ؟ /برائے مہربانی حکم شرعی سے آگاہ فرمائیں شکریہ!
نوٹ: زمین میرے قبضے میں نہیں آیا ، اور میں نے اس میں کسی قسم کا تصرف بھی نہیں کیا۔
سائل مسمی ۔۔۔نے ڈھائی سال قبل مسمی ۔۔۔۔ سے اس کی زمین کا جتنا حصہ (%12.5) خریدا ،تو سائل مسمی ۔۔۔کے ساتھ مذکور زمین میں شریک ( حصہ دار) بن چکا ہے ، جس کے نفع و نقصان کی ذمہ داری اس تناسب سے مسمی ۔۔۔ پر عائد ہوگی ، لہٰذا سائل مذکور زمین سے اپنا حصہ اگر اپنے شریک کو اس کی خریدی ہوئی قیمت (6500000) سے زیادہ پر فروخت کر کے نفع کمانا چاہتا ہو ، تو ایسا کر ناشر عا جائز ہے ، شرعا یہ معاملہ سود کے زمرے میں بھی داخل نہیں۔
كما في فقه البيوع: وعلي هذا فإن بيع قطعة غير معينة من جملة القطاعات لا يجوز عند الإمام أبي حنيفة رحمه الله تعالي, ويجوز عند صاحبيه والظاهر إن كانت جهالة التعيين تفضي إلى المنازعة، فالأخذ بقول الإمام أبي حنيفة أولي، وإن لم تكن مفضية إلى المنازعة فقول الصاحبين أولي بالأخذ (إلي قوله) وكذلك ينبغي أن يجوز لمن اشتراه أن يبيعه إلي آخر علي قول أبي يوسف رحمه الله تعالي لأنه يجوز بيع العقار قبل قبضه اھ (۱/ ۳۷۷، ۳۷۸)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): مطلب فيما إذا اشترى أحد الشريكين جميع الدار المشتركة من شريكه قلت: علم من هذا ما يقع كثيرا، وهو أن أحد الشريكين في دار ونحوها يشتري من شريكه جميع الدار بثمن معلوم فإنه يصح على الأصح بحصة شريكه من الثمن وهي حادثة الفتوى اھ (5/ 57) والله أعلم بالصواب۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1