کیا فرماتے ہیں علماء دین، اس مسئلہ میں کہ مجھے اپنی بیوی پر شک ہوا کہ وہ غیر مردوں سے فون پر باتیں کرتی ہے، چنانچہ میں اس کے پیچھے لگ گیا حتی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ وہ ایساہی کرتی ہے، چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ " آج کے بعد تم اگر غیر مردوں سے فون پر بات کروگی تو تم مجھ پر طلاق ہو گی " تین دفعہ یہ جملہ دہرایا، اس کے چند ماہ بعد اس کی انہی لوگوں سے فون پر باتیں ہو گئی ، اور موقع پر پکڑی گئی ، اور اقرار بھی کر لیا ،تو جناب اس صورت حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں کہ کیا میری بیوی کو طلاق ہو گئی ؟ اگر ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں ہوئیں ؟ اور اب دوبارہ با ہم میاں بیوی بن کر گھر آباد کر سکتا ہوں؟
نوٹ : ایک بات رہ گئی تھی وہ یہ کہ یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد میرے بھائی مجھے مصالحت پر آمادہ کر رہے تھے، تو میں نے اس موقع پر بھی کہہ دیا تین دفعہ کہ میں اسے طلاق دیتا ہوں ، مندرجہ بالا تمام واقعات کے ثبوت میرے پاس موجود ہیں مکمل تفصیلات کے ساتھ ۔
سائل کے اس جملے سے کہ " آج کے بعد تم اگر غیر مردوں سے فون پر بات کرو گی الخ " تعلیق طلاق منعقد ہو چکی تھی ، اس کے بعد سائل کی بیوی نے جب غیر مردوں سے بات کی ہے تو شرط پائی جانے سے معلق تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، جبکہ بعد کی طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو شمار ہوں گی، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ با ہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی و نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في الدر المختار: (ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى) ويسمى يمينا مجازا وشرط صحته كون الشرط معدوما على خطر الوجود اھ (3/ 341)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله واصطلاحا ربط إلخ) فهو خاص بالمعنوي والمراد بالجملة الأولى في كلامه جملة الجزاء، وبالثانية جملة الشرط اھ (3/ 341)
و فيها أیضا: تحت (قوله على خطر الوجود) أي مترددا بين أن يكون وأن لا يكون لا مستحيلا ولا متحققا لا محالة لأن الشرط للحمل والمنع وكل منهما لا يتصور فيهما شرح التحرير اھ (3/ 342)۔
و في الفتاوى الهندية: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء اھ (1/ 356)۔
و فيها أیضا: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق اھ (1/ 420)۔
و في الهداية شرح البداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } فالمراد الطلقة الثالثة اھ (2/ 10) والله اعلم بالصواب
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0