ایک شوہر نے بیوی سے کہا کہ"اگر تم فلاں شخص سے بات کرو گی تو میری طرف سے طلاق ہو جائے گی" (نیت یہ تھی کہ طلاق اسی وقت دوں گا اگر وہ دوبارہ ایسا کرے گی، فی الحال طلاق نہیں دینا چاہتا تھا) ۔بعد میں اسی شوہر نے بیوی سے کہاکہ "اگر وہ شخص تمہیں سلام کرے تو تم اسے جواب دے دینا" بیوی نے شوہر کے کہنے پر اس شخص کو سلام کا جواب دیا۔
اب معلوم کرنا یہ ہے کہ 1. کیا بیوی کی وہ بات (سلام کا جواب دینا) شوہر کی اجازت سے ہونے کی وجہ سے شرط پوری نہیں سمجھی جائے گی؟ 2. کیا مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ 3. اگر شوہر کی نیت فی الفور طلاق دینا نہیں تھی، بلکہ صرف ڈرانا یا تنبیہ تھی، تو کیا نیت کا اعتبار ہوگا؟
پس منظر: شوہر نے طلاق کو ایک شرط سے معلق کیا تھا ، شرط والا عمل بیوی نے شوہر کی اجازت سے کیا ،شوہر کی نیت صرف اصلاح اور تنبیہ کی تھی، نہ کہ طلاق فوراً واقع کرنے کی ، شرعی رہنمائی درکار ہے کہ کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو گئی؟ اگر نہیں تو بیوی نکاح میں برقرار ہے؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ اس نے مذکور الفاظ ’’اگرتم فلان شخص سے بات کروگی تومیری طرف سے طلاق ہوجائے گی“ کہتے وقت طلاق کی نیت نہ کی تھی، بلکہ محض اصلاح اور تنبیہ کی نیت کی تھی تو ان الفاظ سے کوئی طلاق معلق نہیں ہوئی تھی، چنانچہ اس کے بعد سائل کی بیوی کا مذکور شخص سے سلام کہنے سے اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے، لیکن آئندہ کیلئے طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ:إذا قال لامرأته في حالة الغضب: إن فعلت كذا إلى خمس سنين تصيري مطلقة مني وأراد بذلك تخويفها ففعلت ذلك الفعل قبل انقضاء المدة التي ذكرها فإنه يسأل الزوج هل كان حلف بطلاقها فإن أخبر أنه كان حلف يعمل بخبره ويحكم بوقوع الطلاق عليها وإن أخبر أنه لم يحلف به قبل قوله كذا في المحيط الخ(الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق،ج:1،ص433،ط:ماجدیۃ)۔
وفی الشامیۃ: قوله ( وقالوا النية للحالف الخ ) قال في الخانية رجل حلف رجلا فحلف ونوى غير ما يريد المستحلف إن بالطلاق والعتاق ونحوه يعتبر نية الحالف إذا لم ينو الحالف خلاف الظاهر ظالما كان الحالف أو مظلوما وإن كان اليمين بالله تعالى فلو الحالف مظلوما فالنية فيه إليه وإن ظالما يريد إبطال حق الغير اعتبر نية المستحلف وهو قول أبي حنيفة ومحمد الخ( مطلب النية للحالف لو بطلاق أو عتاق،ج:3،ص:785،ط:سعید)۔
وفی تکملۃ فتح الملھم:وجملة الكلام في المسألة على ما فهمته من فقهاءنا أن التورية في اليمين لا يخلو: إما أن يكون اللفظ يحتمله، ولو على سبيل المجاز، أو لا، فإن كان اللفظ لا يحتمله فالمعتبر هو المعنى الظاهر، ولا عبرة بنية الحالف أصلاً، وأما إذا كان اللفظ يحتمله فلا يخلو : إما أن يكون اليمين بالله، أو بالطلاق والعتاق، فإن كان بالطلاق والعتاق، فالمعتبر فيه الحالف مطلقاً وإن كان خلاف الظاهر الخ(باب الیمین علی نیۃ المستحلف،ج:2،ص:179،ط:دار احیاء التراث)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0