کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بلڈر نے اپارٹمنٹ بنایا، اور بناتے وقت اور تعمیر کے وقت اس مالکِ بلڈنگ نے خرید نے والوں سے کہا تھا کہ اس میں تمام سہولیات ہوں گی اور مسجد بھی ہوگی، لیکن جب فلیٹ خرید کر لوگ رہائش پذیر ہوئے تو اس بلڈنگ کے اندر مسجد موجود نہ تھی، اب ان آباد ہونے والے لوگوں نے بلڈنگ کے مالک سے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ نے مسجد کا کہا تھا لیکن وہاں پر بلڈنگ کے اندر مسجد نہیں ہے۔ تو اس کے جواب میں بلڈنگ کے مالک نے کہا کہ جگہ موجود ہے تم مسجد بنالو میں تمہیں مسجد کی تعمیر کے لئے پیسے دیدوں گا۔ اور اس نے رقم تعمیر مسجد کے لئے ادا بھی کر دی۔ اب وہاں رہائش پذیر لوگوں نے مسجد بنائی اور اس مسجد میں پانچ نمازیں ادا ہوتی ہیں۔ صرف جمعہ کی نماز نہیں ہوتی۔
بڑھتی ہوئی آبادی اور کثرتِ نمازیوں کی وجہ سے مسجد کے ساتھ والی جگہ کو بھی مالک کی اجازت سے مسجد کا حصہ بنادیا اور رمضان کے مہینے میں وہاں تراویح کی نماز بھی ادا کی جاتی ہے۔ اب مسجد کا وہ حصہ جس کو باقاعدہ تعمیر کر کے مسجد میں شامل کر دیا گیا ہے اس شامل شدہ جگہ سے نہ کوئی راستہ بند ہوتا ہے اور نہ کوئی اور رکاوٹ ہے۔ اب اعتراض کرنے والے حضرات نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ یہاں نماز نہیں ہوتی۔ ان اعتراض کرنے والوں میں ایک غیر مسلم بھی ہے۔ اب اس بلڈنگ کے ساتھ ایک اور بلڈنگ جس کے اندر جامع مسجد ہے اس جامع مسجد کے امام خطیب صاحب کو بلا کر یہ صورتحال بتائی تو انہوں نے کہا کہ اس تعمیر میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ کیا اس مسجد میں اعتکاف ہو سکتا ہے ؟ ایسی جگہ نماز جمعہ کا کیا حکم ہے ؟
سائل نے معترضین کے اعتراض کی وجہ بیان نہیں کی، تاہم اگر مسجد کے برابر والی زمین پرانی مسجد سے متصل ہو، اور اس کو مالک کی اجازت سے وقف کے بعد باقاعدہ شرعی مسجد کا حصہ بنادیا گیا ہو تو وہ حصہ بھی شرعا مسجد کے ہی حکم میں ہے، اور اس میں اعتکاف یا نماز جمعہ کا ادا کرنا بلا کراہت جائز اور درست ہے۔ ورنہ جو بھی حقیقی صورت حال ہو اس کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔
كما في الدر المختار : (تؤخذ أرض) ودار وحانوت (بجنب مسجد ضاق على الناس بالقيمة كرها) درر وعمادية. اھ (4/ 379)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وتؤخذ أرض) في الفتح: ولو ضاق المسجد وبجنبه أرض وقف عليه أو حانوت جاز أن يؤخذ ويدخل فيه اهـ زاد في البحر عن الخانية بأمر القاضي وتقييده بقوله: وقف عليه أي على المسجد يفيد أنها لو كانت وقفا على غيره لم يجز لكن جواز أخذ المملوكة كرها يفيد الجواز الأولى؛ لأن المسجد لله تعالى، والوقف كذلك ولذا ترك المصنف في شرحه هذا القيد وكذا في جامع الفصولين تأمل اھ (4/ 379)۔