کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسمی۔۔۔ کا نکاح مسماۃ۔۔۔ کے ساتھ دولاکھ روپے حق مہر کے سا تھ طے پایا، بعد میں شادی کے موقع پر شوہر نے مہر میں دولاکھ روپے کے عوض پانچ تولہ سونا ادا کر دیا، شادی کے بعدشوہر نے گھر کی تعمیر شروع کی، تو بیوی نے مذکور پانچ تولہ سونا ان کو دیدیا، لیکن سونا دیتے وقت بیوی نے قرض یا عاریت وغیرہ کی کوئی تصریح نہیں کی تھی، بعد میں شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی۔
اب سوال یہ ہےکہ جدائی واقع ہونے کے بعد بیوی شوہر سے تعمیر کے وقت دیئے گئے سونے کی واپسی کا مطالبہ کرنا چاہتی ہے، کیا اس کا یہ مطالبہ شرعاً درست ہے ؟ اگر درست ہے، تو کیا مہر میں طے شدہ دولاکھ روپے کا مطالبہ کرے، یا اس کے عوض دیئے جانے والے مذکور پانچ تولہ سونے کا مطالبہ کرے؟ بینوا بالبرهان تؤجروا عند الرحمن۔
شوہر مسمی ۔۔۔ نے بیوی کی رضامندی سے جب اسے طے شدہ مہر ( دولاکھ روپے) کے عوض پانچ تولہ سونا دیا، تو اس سے بیوی کا حقِ مہر اداہو چکا تھا، اس کے بعد مکان کی تعمیر کے موقع پر بیوی سے مذکور سونا شوہر نے اگر مانگ کر بطور قرض لیا تھا باضابطہ گفٹ کر کے بیوی نے نہ دیا ہو، تو اب دونوں میاں بیوی کے دورمیان علیحدگی کی صورت میں بیوی کے لیے شوہر سے مذکور سونا واپس کرنے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے۔ اور شوہر پر اسی کی ادائیگی لازم ہے ۔
كما فی الدر المختار : (وما فرض) بتراضيهما أو بفرض قاض مهر المثل (بعد العقد) الخالي عن المهر (أو زيد) على ما سمي فإنها تلزمه بشرط قبولها في المجلس أو قبول ولي الصغيرة ومعرفة قدرها وبقاء الزوجية على الظاهر نهر. (3/ 111)۔
و في البحر الرائق: والدين الصحيح ما لا يسقط إلا بالأداء أو الإبراء اھ (6/ 235)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): لأن الدين الصحيح ما لا يسقط إلا بالأداء أو الإبراء اھ (5/ 302)۔
و في الدر المختار: باب الرجوع في الهبة (الى (قوله) (والزاي الزوجية وقت الهبة فلو وهب لامرأة ثم نكحها رجع ولو وهب لامرأته لا) كعكسه. (5/ 704)۔والله اعلم بالصواب