کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حکومت نے اخبار میں یہ اشتہار دیا ہےکہ جن اضلاع میں تعلیم کے محکموں میں خالی پوسٹیں ہوں ،ان پر دی گئی شرائط کے مطابق اپنے کاغذات جمع کرائیں، ان شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ہر یونین کے امیدوار کو ان کے یو نین میں خالی پوسٹ پر ٹیسٹ انٹرویو پاس کرنے کے بعد تعینات کیا جائے گا، اب سوال یہ ہے کہ یہ پوسٹیں جن سرکاری حکام کے ہاتھ میں ہیں، ان میں بعض لوگ ان پوسٹوں کو در پر دہ پیسوں سے بیچ دیتے ہیں، کیا میں ان میں سے ایک پوسٹ جو اپنے یونین کی ہو پیسوں سے خرید سکتا ہوں ؟ اگر نہیں تو دوسرے لوگ اس پوسٹ کو پیسوں سے خرید لیتے ہیں۔ جن لوگوں نے اس طرح کر کے پیسوں کے ذریعے پوسٹیں خریدی ہوں تو کیا ان کے لئے اس طرح نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور ان کے لئے تنخواہ لینا حلال ہے یا حرام؟
سرکاری حکام کے لئے خالی پوسٹوں کو فروخت کر کے رقم وصول کرنا قطعاً نا جائز و حرام ہے ، اور ان کے لئے اس حاصل شدہ رقم کو اپنے استعمال میں لانا بھی جائز نہیں، تاہم اگر کوئی شخص کسی ادارے میں ملازمت کے لئے درکار انٹر ویو دیدے ، اور اس میں کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی قابلیت اور اس پوسٹ کے لئے اہلیت بھی رکھتا ہو ، اور رشوت دیے بغیر اس کا تقرّر نا ممکن ہو اور رشوت دینے سے کسی کا حق بھی ضائع نہ ہو تا ہو تو اس صورت میں اگر چہ اپنے حق کے حصول کی خاطر اس پوسٹ تک پہنچنے کے لئے کچھ رقم دینے کی گنجائش ہے، اور اس ملازمت کی تنخواہ بھی حلال ہو گی ، مگر لینے والے کے لئے بہر صورت ناجائز و حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے ، جبکہ ادارے کی طرف سے جاری کر دہ پوسٹ کے لئے مطلوبہ قابلیت و صلاحیت کے بغیر محض پیسے دیکر پوسٹ حاصل کرنا نا جائز و حرام ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) اضطر إلى دفع رشوة لإحياء حقه جاز له الدفع وحرم على القابض الخ (5/ 72)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1