میں نے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے اپنی نانی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "اگر میں مہر النساء (میری ساس کا نام ہے ) کے گھر گیا تومیری بیوی کو طلاق " تجھے طلاق “ یہ دونوں جملے ایک ایک دفعہ بولے ہیں ، اس کے علاوہ کبھی کسی موقع پر طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کیے، اور ابھی تک نہ تو میں ساس کے گھر گیا ہوں ، اور نہ ہی میری بیوی اتحاد ٹاؤن گئی ہے۔ براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل بتائیں کہ طلاق بھی نہ ہو اور آنے جانے کی آزادی بھی ہو جائے۔
نوٹ: ابھی یاد آیا کہ ایک دفعہ یوں بھی بولا تھا کہ "اگر میں ساس کے جنازہ میں جاؤں تو تجھے طلاق ؟
سائل چونکہ اپنی بیوی پر مختلف مواقع پر مختلف شرائط کے ساتھ ایک ایک طلاق کو معلق کر چکا ہے، اس لئے اب سائل کی بیوی جب تک اس کے نکاح یا عدت میں ہو ، اگر مذکور شرائط میں سے کوئی شرط پائی جائے، تو اس سے معلق طلاق واقع ہو جائیگی ، البتہ سائل اگر طلاق سے بچنا چاہتا ہو ، اور خود ساس کے گھر جانا چاہتا ہو ، اور بیوی کو اتحاد ٹاؤن اور نانی کے گھر بھیجنا چاہتا ہو، تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دیدے ، اس کے بعد سائل کی بیوی عدت میں بیٹھ جائے، اس عدت کے دوران بھی نہ سائل اپنی ساس کے گھر جائے، اور نہ ہی اس کی بیوی اتحاد ٹاؤن ، اور نانی کے گھر جائے ، جب عدت گذر جائے تو اس کے بعد سائل اپنی ساس کے گھر چلا جائے، اور اس کی بیوی اتحاد ٹاؤن اور نانی کے گھر چلی جائے، تو اس طرح شرطیں پائی جائینگی، اور قسم پوری ہو جائے گی، مگر چونکہ سائل کی بیوی اس وقت سائل کے نکاح میں نہ ہو گی، اس لئے اس پر کوئی طلاق بھی واقع نہ ہو گی ، اس کے بعد باہمی رضامندی سے نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دو بارد عقد نکاح کر لیا جائے ، پھر اس کے بعد مذکور جگہوں میں آنے جانے سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، تاہم اس تجدید نکاح کے بعد سائل کو آئندہ کے لئے فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، اس لئے طلاق کے معاملہ میں آئندہ احتیاط کی اشد ضرورت ہے۔
جبکہ جنازے میں شرکت کرنے کے متعلق حکم یہ ہے کہ سائل اگر اپنی ساس کی وفات کے وقت بقید حیات ہو، اور اس کی مذکور بیوی اس کے نکاح میں ہو، تو جنازے میں شرکت کرنے سے مزید ایک طلاق رجعی واقع ہو جائیگی ۔
كما في الفتاوى الهندية: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق اھ (1/ 420)۔
و في الدر المختار: فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها اھ (3/ 355) والله اعلم بالصواب
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0