میں احسان الحق ولد فضل حق کراچی شہر بخشی سکوائر کا رہائشی ہوں، وہاں میرا ذاتی فلیٹ ہے، میرا شناختی کارڈ نمبر 9-1926396-42101 یہ ہے، میں 85 برس کا ہو گیا ہوں، کوئی کام کاج نہیں کر سکتا، لہذا میں اپنے چھوٹے بیٹے انعام الحق ولد احسان الحق کے ساتھ رہتا ہوں، وہ میری خدمت کرتا ہے، میرا سارا خرچہ اس کے ذمے ہے، میں نے کچھ عرصہ پہلے انعام بیٹے سے 30 لاکھ کی رقم کاروبار کے لئے لی تھی، جو تاحال میں اس کو واپس نہیں دے سکا، لہذا اب میں انعام بیٹے کی ذمہ داری ہوں، وہ مجھے اپنے پاس رکھتا ہے، میں اپنا فلیٹ بطور گفٹ اپنے چھوٹے بیٹے انعام کو اپنی مرضی سے دینا چاہتا ہوں، تو شرعی اعتبار سے اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے ؟ باقی بیٹیوں کو میں اپنی دکان جو کہ اب میں کسی کو دے چکا ہوں، اس میں جو مال ہے، اس کی رقم بیٹیوں کو تقسیم کروں گا اپنی حیثیت کے مطابق، سب سے بڑی بیٹی کو میں اپنی حیثیت کے مطابق دے چکا ہوں، شرعی اعتبار سے میری رہنمائی فرمائیں، کہ یہ غلط تو نہیں ہے۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جیسے چاہے، جائز تصرف کر سکتا ہے، اس پر اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا لازم نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو اپنے والد سے تقسیمِ جائیداد کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل بلا کسی جبر و اکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا فلیٹ بطورِ تحفہ یا ہدیہ یا قرض کے بدلے اپنے مذکور بیٹے کو دینا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے، مگر یہ خیال رہے کہ اس اعطاء میں سب کو اولاد کو برابر رکھے، کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے، کیونکہ یہ گناہ ہے۔جبکہ اس صورت میں مذکور پراپرٹی کو محض کاغذوں میں بیٹے کے نام کرنے پر اکتفاء نہ کرے، بلکہ بیٹے کو اس پر باقاعدہ مالک و قابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہوسکے۔
کما فی الدر المختار : متی وقف حال صحتہ و قال علی الفریضۃ الشرعیۃ قسم علی ذکورھم و اناثھم بالسویۃ ھو المختار الخ
و فی رد المحتار : تحت : (قولہ متی وقف)أی علی اولادہ لانہ منشأ الجواب المذکور کما تعرفہ ، و بہ یظھر فائدۃ التقیید بقولہ حال صحتہ (قولہ کما حققہ مفتی دمشق الخ ) أقول: حاصل ما ذكره فی الرسالة المذكورة أنه ورد فی الحديث أنه صلى الله عليه و سلم قال: «سووا بين أولادكم فی العطية و لو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد فی سننه و فی صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله و اعدلوا فی أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد فی العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية فی العطايا حال الحياة. و فی الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده فی الصحة، و أراد تفضيل البعض على البعض روی عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل فی الدين و إن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبی يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار و إلا سوى بينهم، و عليه الفتوى، و قال محمد : يعطی للذكر ضعف الأنثى، و فی التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر فی الاستحسان فی كتاب الوقف: و ينبغی للرجل أن يعدل بين أولاده فی العطايا و العدل فی ذلك التسوية بينهم فی قول أبي يوسف و قد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، و تبعه أعيان المجتهدين، و أوجبوا التسوية بينهم و قالوا يكون آثما فی التخصيص و فی التفضيل الخ (کتاب الوقف ، ج: 4 ، ص؛ 444 ، ط: سعید)۔
وفی الدر المختار : (و تتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) الخ (کتاب الھبۃ، ج : 5 ، ص : 690 ، ط : ایچ-ایم-سعید)۔
و فی الھندیۃ : لا یثبت الملک للموھوب لہ الا بالقبض ھو المختار ھکذا فی الفصول العمادیۃ الخ (کتاب الھبۃ ، ج : 4 ، ص : 378 ، ط : ماجدیۃ)۔