کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی گاڑی محمد ریاض مغل کو اپریل 2018 کو مبلغ چار لاکھ (400000) میں فروخت کی، جس کی ادائیگی اس طرح ہوئی کہ
۱: 25 اپریل 2018 کو پچاس ہزار (50000) روپے وصول ہوئے۔
۲: پھر 29 مئی 2018 کو پچاس ہزار (50000) روپے وصول ہوئے۔
۳: 31 دسمبر 2018 کو ڈھائی لاکھ (250000) روپے وصول ہوئے۔
۴: 24 اکتوبر 2019 کو پچاس ہزار (50000) روپے وصول ہوئے،اس طرح مجھے چار لاکھ (400000 )روپے وصول ہو گئے، اب سوال یہ ہے کہ میں نے گاڑی اکتوبر 2019 کو محمد ریاض مغل کے حوالے کی ہے، جبکہ محمد ریاض اس سے پہلے %87.5 رقم کی ادائیگی کر چکا تھا، اور اسی دوران میں گاڑی استعمال بھی کرتارہا، اب مجھے گاڑی کی استعمال کی مد میں محمد ریاض مغل کو کوئی اجرت ادا کرنی ہے کہ نہیں ؟ کیونکہ گاڑی پر اس کا حق آچکا تھا، اور وہ اس استعمال کا معاوضہ طلب بھی کر رہا ہے۔
نوٹ: کچھ ساتھی یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ آپ نے گاڑی کافی لمبا عرصہ استعمال کیا ہے، اور آپ ایک بڑی رقم بھی وصول کر چکے تھے، لہذا مارکیٹ میں رائج اجرت کے تحت محمد ریاض مغل کو ادائیگی کرنی چاہیئے ؟
نوٹ: مزید تنقیح کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ بیع ادھار تھی نہ ہی قسط وار ، بلکہ نقد بیع تھی، جبکہ اسی دوران سائل ( بائع ) گاڑی کو بغیر اجازت مشتری کے استعمال کر تار ہا؟
مذکور صورت میں جبکہ بیع نقد پر ہوئی تھی، تو سائل حیدر زمان کا قیمت کی مکمل وصولی تک گاڑی کو اپنے پاس روک کر محمد ریاض مغل کے حوالہ نہ کرنا اگر چہ جائز تھا، مگر فروختگی کے بعد سے قیمت کی وصولی کے دوران سائل چونکہ گاڑی استعمال کرتا رہا، اس لئے اس استعمال کی وجہ سے اگر گاڑی کو کوئی نقصان پہنچا ہو ، یا اس میں کوئی عیب پیدا ہوا ہو ، جو فروختگی کے وقت نہیں تھا، اور اس کی وجہ سے اس کی قیمت میں کمی آئی ہو ، تو ایسی صورت میں محمد ریاض مغل نقصان کے بقدر قیمت کم کرنے کا حقدار ہے ، اور اگر چاہے تو گاڑی واپس کر کے اپنے دیے ہوئے پیسے بھی وصول کر سکتا ہے۔ لیکن جتنے عرصہ تک گاڑی سائل کے قبضہ میں رہی اور وہ اسے چلاتا رہا اس استعمال کی مد میں خریدار کا اس سے اجرت طلب کرنا درست نہیں، اس لئے کہ جب تک اس نے گاڑی پر قبضہ نہیں دیا، اس وقت تک گاڑی اس کی ملکیت سے نہیں نکلی، لہذا سائل کے لئے اپنے ساتھیوں کے مشورہ پر عمل کرناضروری نہیں۔
كما في الفتاوى الهندية:م قال أصحابنا رحمهم الله تعالى للبائع حق حبس المبيع لاستيفاء الثمن إذا كان حالا كذا في المحيط وإن كان مؤجلا فليس للبائع أن يحبس المبيع قبل حلول الأجل ولا بعده كذا في المبسوط ولو كان بعض الثمن حالا وبعضه مؤجلا فله حبسه حتى يستو في الحال ولو بقي من الثمن شيء قليل كان له حبس جميع المبيع كذا في الذخيرة اھ (3/ 15)۔
وفيها ايضا : العقد سقط عنه جميع الثمن وإن اختار أخذ الأقطع فعليه نصف الثمن عندنا العقد سقط عنه جميع الثمن وإن اختار أخذ الأقطع فعليه نصف الثمن عندنا اھ (3/ 25)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1