محترم جناب! میں ایک non banking پرائیویٹ کمپنی سے گاڑی قسطوں پر لینا چاہتا ہوں، کمپنی کی شرئط یہ ہیں کہ:
۱: down payment معاہدہ کے وقت ادا کرنا ہو گی، اس کے پندرہ سے بیس دنوں کے بعد تمام تر verification کے گاڑی حوالے کی جائے گی۔
2:اگر دو یا تین قسطیں ادا کرنے سے رہ جائیں، تو ان قسطوں کو اگلے سال کی قسطوں میں برابر تقسیم کر دیا جائے گا ،بغیر کسی اضافی رقم اور لیٹ فیس کے۔
برائے مہربانی اسلام کی روشنی میں میری راہ نمائی فرمائیں۔
مذکور کمپنی سے درج ذیل شرائط کے ساتھ قسطوں پر گاڑی خرید نا جائز ہے۔
۱:مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہو رہا ہے۔
۲: گاڑی کی کل قیمت اور تمام قسطیں بھی طے کر لی جائیں۔
۳: کسی قسط کے شارٹ ہونے یا تاخیر سے ادا کرنے کی صورت میں کسی قسم کا جرمانہ بھی مشروط نہ ہو۔ اور نہ ہی اس کی وجہ سے اصل قیمت میں اضافہ کیا جائے، چنانچہ مندرجہ بالا شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے کمپنی سے قسطوں پر گاڑی لینا جائز ہو گا۔
كما في فقه البيوع : البيع بالتقسيط : وكما يجوز ضرب الأجل لاداء الثمن دفعة واحدة كذالك يجوز أن يكون اداء الثمن بأقساط ، بشرط أن تكون أجال الاقساط ومبالغها معينة عند العقد وقد يسمى البيع بالتقسيط وهو نوع من بيع المؤجل اھ (۱/ ۵۳۹) والله اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1