مفتی صاحب میں یعنی شاہد خان ایک کاروبار کر رہا ہوں ،میرا ایک رشتہ دار ہے ،اللہ تعالی نے ان کو بہت دولت دی ہے، میں نے ان سے گاڑی کی فرمائش کی ان کے پاس اپنی گاڑی نہیں ہے، تو اس نے مجھے کہا کہ آپ گاڑی تلاش کرو میں نے گاڑی تلاش کیا گاڑی مجھے پسند آگئی اور قیمت بھی طے کیا ،اس کے بعد وہ میرے ساتھ شوروم پر گیا اور گاڑی کی قیمت ادا کیی ،اس پر قبضہ کیا اور گاڑی کی قیمت آٹھ لاکھ روپے اور قسطوں پر مجھے دیا 12 لاکھ روپے میں،گاڑی کا سارا نقصان میرے اوپر یعنی شاہد خان کے اوپر ہوگا،اور درمیان میں کوئی شرط نہیں رکھی یعنی قسط شارٹ ہونے پر کوئی اضافی چارج یا انہیں ناغہ نہیں رکھا ۔
برائے مہربانی دین کی روشنی میں میں رہنمائی کرے کہ یہ کام جائز ہے یا نہیں ، واضح ہو کہ مہینہ کا بیس ہزار روپے قسط دینا طے ہوا ہے، اور کل 60 قسطے ہیں، نیز میں اگر اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے کسی مہینے میں بجائے بیس ہزار روپے کے 15 ہزار روپے بطور قسط دے دوں تو اس کی بھی گنجائش ہے، اور مجھے انتہائی پانچ سالوں میں 12 لاکھ روپے پورے کرنے ہیں، اس طرح اگر مجبوراً پانچ سال سے کچھ مدت اوپر بھی گزر جائے، تب بھی اس تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ نہیں لیا جائے گا براہ کرم اس طرح کا معاملہ شرعاناجائز ہے یا نہیں؟
جی ہاں !مذکور طریقہ کے موافق معاملہ کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
وفی المبسوط: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم (الی قولہ) وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد الخ (13/7)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1