ہماری کمپنی چین سے جوتے امپورٹ کرتی ہے۔ چینی سپلائرز کو ادائیگی کے لئے ہمیں چائنیز کرنسی RMB درکار ہوتی ہے، جو ہم عموماً حوالہ کے ذریعے لیتے ہیں۔ عملی صورت یوں ہےکہ جب ہم حوالہ ڈیلر کو رقم نقد (PKR) فوراً ادا کرتے ہیں تو وہ ہمیں مارکیٹ ریٹ پر (RMB) فراہم کر دیتا ہے۔لیکن جب ہم رقم بعد میں (ادھار/مؤخر) ادا کرتے ہیں مثلاً چند دن یا ایک مقررہ تاریخ کے بعدتو وہ ہمیں اسی دن RMB مہنگے ریٹ پر دیتا ہے (یعنی تاخیرِ ادائیگی کے بدلے زیادہ ریٹ وصول کرتا ہے)، برائے کرم درجِ ذیل امور پر فقہِ حنفی اور نصوصِ شرعیہ (قرآن و حدیث) کی روشنی میں واضح رہنمائی فرمائیں:
کیا مذکورہ دوسری صورت میں ادائیگی کی تاخیر کے بدلے ریٹ بڑھانا سود (ربا) کے زمرے میں آتا ہے؟کرنسی کے تبادلے (بیعِ صرف) میں کیا یہ لازم ہے کہ دونوں طرف سے قبضہ/ادائیگی “ہاتھوں ہاتھ” ہو؟ اگر ایک طرف تاخیر ہو تو حکم کیا ہوگا؟اگر ریٹ اُسی وقت فکس کر لیا جائے مگر روپے کی ادائیگی بعد میں ہو تو شرعاً اس کی حیثیت کیا ہے؟اگر یہ طریقہ ناجائز ہو تو شرعی اور حلال متبادل (مثلاً کوئی جائز معاہدہ یا دستاویزی طریقہ) کیا اختیار کیا جائے جس سے کاروباری ضرورت بھی پوری ہو اور ربا سے بھی حفاظت ہو؟
راجح قول کے مطابق اگرچہ کسی بھی ملک کی کرنسی شرعاً ثمنِ عرفی شمار ہوتی ہے اور مختلف کرنسیوں کا آپس میں تبادلہ کرتے وقت ان پر بیعِ صرف کے احکام لاگو نہیں ہوتے ، لیکن مختلف ممالک کی کرنسیوں کی خرید فروخت کے وقت کسی ایک عوض پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ ریٹ کے مطابق لین دین کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اسے سود خوری کا ذریعہ نہ بنایا جاسکے ۔
لہٰذا سائل کا مذکور ادھار معاملہ کرتے وقت مجلسِ عقد میں (RMB) پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی قیمت کا تعیّن مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے تاکہ سودی معاملات میں شامل ہونے سے حفاظت ہوسکے۔
کما فی البحر الرائق: وقيد بالذهب والفضة لأنه لو باع فضة بفلوس أو ذهب بفلوس فإنه يشترط قبض أحد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما كذا في الذخيرة وقدمناه عند قوله في باب الربا وصح بيع الفلس بالفلسين الخ ( کتاب الصرف، ج 6 ص 211، ط: دار الکتاب الاسلامی )۔
و فی الشامیۃ: [تنبيه] سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة. فأجاب: بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين لما في البزازية لو اشترى مائة فلس بدرهم يكفي التقابض من أحد الجانبين الخ ( مطلب فی استقراض الدراھم، ج 5، ص 180، ط: سعید )۔
و فی الفتاوی التتارخانیۃ: إن الأوراق النقدیۃ ثمن عرفي لیست ثمنًا حقیقیًا والربا یجري في الثمن الخلقي الذاتي إذا في الأوراق النقدیۃ في مختلف الدولۃ ینفی القدر والجنس، أما الجنس فظاہر الاختلاف الدولۃ، وأما القدر؛ لأنہا لیست من جنس الآثمان الخلقیۃ؛ بل عرفیۃ، فیجوز التفاضل والنسیۃ إلا أن القبض علی أحد البدلین ضروري؛ لئلا یقع في بیع الکالي بالکالي.( ج8 ص348 ط: ادارۃ القرآن کراتشی)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1