???????? اردو متن – شرعی رہنمائی کے لیے درخواست
________________________________________
موضوع:
(i) تاخیر پر لازمی “خیراتی چارجز”
(ii) مجبوری کی حالت میں اقساط کی اجازت کے بارے میں شرعی رہنمائی
________________________________________
محترم علمائے کرام!
میں، محمد انور مل والا، اپنی ادارتی نمائندگی میں آپ کی خدمت میں شرعی رہنمائی کا طالب ہوں۔ ہمارا مالی معاہدہ اسلامی بینکاری اصولوں کے تحت ہوا تھا۔ معاہدے کے وقت مالی حالت بہتر تھی، جبکہ بعد ازاں غیر متوقع عالمی حالات (امریکہ میں ٹرمپ کے بعد تجارتی پابندیاں، ایران–اسرائیل/مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، پاک–ہند تناؤ، اور بحیرۂ احمر کی شپنگ بحران) کے باعث فریٹ، انشورنس اور ڈلیوری لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور ہماری برآمدی ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہو گئیں۔ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اس لیے یہ مشکل پیشگی معلوم نہ تھی۔
________________________________________
معاہدے کی متعلقہ شق:
“Recovery of Charity Charges @ 20% of the due installment amount upon No. of Days delay till the date of receipt of installment.”
________________________________________
شرعی استفسارات
1. جبری خیرات:
کیا طے شدہ منافع کے علاوہ تاخیر کی صورت میں لازمی/خودکار “خیراتی چارجز” کی کٹوتی، جبکہ صارف حقیقی مجبوری میں ہو اور نیتِ خیرات موجود نہ ہو، شرعاً درست ہے؟
2. ادائیگی کا طریقہ:
اگر خیرات لی بھی جائے تو کیا صارف کو اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ رقم کسی مستند فلاحی ادارے (جیسے انڈس اسپتال، TCF وغیرہ) میں براہِ راست جمع کرا کر رسید بینک کو دے، بجائے اس کے کہ رقم بینک کے اپنے اکاؤنٹ میں جائے؟
3. اقساط کی گنجائش:
تعذر اور مشقت کے پیشِ نظر کیا اصل واجبات (پرنسپل بمع متعین منافع) کی قسطوں میں ادائیگی کی اجازت دینا شرعاً بہتر/جائز ہے بجائے اس کے کہ ایک ساتھ پوری رقم لازم کی جائے؟
4. تعذر میں رعایت:
خارجی و غیر معمولی حالات کے پیشِ نظر کیا شریعت خیراتی چارجز میں رعایت/معافی کی تائید کرتی ہے؟
________________________________________
پس منظر (اختصار)
● غیر متوقع حالات: پالیسی و تنازعات کے باعث جہاز رانی راستے بدلے، سفر 10–15 دن بڑھا، لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
● نقد رقوم میں دباؤ: ترسیلات/ادائیگیوں میں تاخیر سے کیش فلو متاثر ہوا۔
● نیک نیتی: اصل واجبات اور طے شدہ منافع ادا کرنے کا التزام موجود ہے؛ اشکال جبری “خیرات” پر ہے۔
________________________________________
براہِ کرم مندرجہ بالا نکات پر تحریری، مہر شدہ فتویٰ مرحمت فرمائیں تاکہ ہم اسے متعلقہ فریق کو پیش کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی کو قبول فرمائے۔
________________________________________
سوال کے ساتھ بینک کا ایگریمنٹ منسلک نہیں ، جس کو دیکھ کر خاص اس سے متعلق حکم بتایاجاتا ،تاہم جہاں تک بینک کی طرف سے چیرٹی کوصول کرنے کا تعلق ہےتو یہ غیر سودی بینکوں میں گاہک کی طرف سے وقت پر ادائیگی یقینی بنانے ، بلاعذر ٹال مٹول سے بچنے کے لئےیہ شق رکھی جاتی ہے ،جس میں گاہک (کلائنٹ)واجب الاداءرقم کی ادائیگی میں تاخیرکرنے کی صورت میں اپنےاوپرلازم کرتا ہے کہ میں ایک مخصوص رقم بینک کے مطالبہ پر بینک کے ہی ذریعہ چیرٹی کروں گا ،اور اسے فقہی اسطلاح میں التزام بالتصدق کہاجاتا ہے اس میں مندرجہ ذیل یا اس سے ملتے جلتے الفاظ استعمال ہوتے ہیں :۔
"Without prejudice to any other rights of the Bank, in the event of a default by the Customer(s) in the payment of any amounts due under this. if the Bank is of the opinion that such delay in payment is without a valid reason (which the Bank shall inform through a written notice), the Customer(s) hereby undertakes to pay, upon demand by the Bank, a sum of Rs. ________ as charity to be donated by the Bank on behalf of the Customer(s) for charitable and religious purposes."
ترجمہ :بینک کےدیگرحقوق پراثراندازہوئےبغیر،گاہک کی طرف سےاس عقدکےتحت ہونےوالی ادائیگی میں ناکرنے کی صورت میں اگربینک کی یہ رائے ہوکہ ادائیگی میں تاخیرکسی معتبرعذرکےبغیرہے(اس رائےکی اطلاع بینک بذریعہ نوٹس کرےگا) گاہک اس صورت میں التزام کرتاہےکہ وہ بینک کے مطالبہ پر ،اتنے۔۔۔۔۔روپےصدقہ کےطورپراداکرےگاجوبینک گاہک کی طرف سےخیراتی اورمذہبی مقاصدمیں خرچ کرےگا۔
یہ مذکورہ التزام شرعاً نذر(منت ) کےہیں جسکومالکیہ کے نزدیک "نذر اللجاج" کہا جاتا ہے ،اوراس کوپوراکرناان کےنزدیک دیانۃً وقضاء ً لازم ہے۔ جبکہ موجودہ دور میں حقوق کی ادائیگی میں بلاوجہ ٹال مٹول کرناعام ہے،اسلئےاس مسئلہ میں مالکیہ کےمذہب کولیاگیاہے۔
لہذا مسئولہ صورت میں اگر سائل نے اسی نوعیت کا التزام (Undertaking)بینک کے ساتھ کیا ہو تو ایسی صورت میں اگر بلا عذر ادائیگی میں تاخیر کرتا ہے تو چیریٹی لازم ہے ،لیکن اگر واقعۃ ًکوئی معتبر عذر ہے جس کی وجہ سے سائل بر وقت ادائیگی نہیں کرسکا تو ایسی صورت میں یہ عذر بینک کے سامنے پیش کرے اور ثابت بھی کرے،عذر ثابت ہو نےپر چیریٹی لازم نہیں ۔
نیز اس میں یہ شرط بھی ہوتی ہے بینک کے مطالبہ پر ادا کرےگا، اگر عذر ثابت ہو جائے اور اس صورت میں ینک مطالبہ نہ کرے تو بھی ادائیگی لازم نہیں ہوگی ۔
یہ رقم ازخود صدقہ کرنا انتظاماً کافی نہیں ،کیونکہ اس التزام میں یہ الفاظ موجود ہیں وہ چیریٹی بینک کے ذریعہ کرائے گا، لہذا بینک کے شرعی ایڈوائزر کی اجازت سے کہیں اور کرسکتا ہے ،ورنہ بینک کے ذریعہ چیریٹی کرانا انتظاماً اور ایگریمنٹ کا حصہ ہونے کی وجہ سے قانونا ضروری ہے ، البتہ یہ رقم بینک میں جمع کرائی جائے تو بینک یہ رقم اپنے آمدنی میں شامل نہیں کرسکتا بلکہ کسی خیراتی کام میں خرچ کرنے کا پابند ہوگا ۔
حاشية الصاوي على الشرح الصغير = بلغة السالك لأقرب المسالك (2/ 250)
ومنه نذر اللجاج؛ وهو أن يقصد منع نفسه من شيء ومعاقبتها نحو: لله علي كذا إن كلمت زيدا وهذا من أقسام اليمين عند ابن عرفة، وعلى كل حال يلزمه ما لزمه، فالحلف لفظي خلافا لليث وجماعة القائلين إن فيه وفي اللجاج كفارة يمين،