کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حاجی صبغت اللہ ولد عمر نے بندہ (رحمت اللہ ولد غلام رسول) سے فرمایا کہ: حکیم ولد احمد شاہ کے پاس چند بسوہ زمین ہے، وہ زمین کو بسوہ کے حساب سے ایک لاکھ (100000) پر فروخت کر رہا ہے، تم میرے لیے خرید لو۔ اب ارشاد فرمائیں کہ اس جملے "میرے لیے خرید لو" سے بندہ وکیل بنتا ہے یا نہیں؟
بہر صورت بندہ نے وہ زمین اسی طرح خرید لی جس طرح کہا گیا تھا کہ ہر بسوہ ایک لاکھ افغانی ہے۔ لیکن حاجی صاحب کی اجازت سے چند بکریاں، جو کچھ میری اپنی تھیں اور کچھ حاجی صبغت اللہ کی تھیں، بازار کے ریٹ سے زیادہ قیمت پر (یعنی فی بکری 30000 افغانی) بطورِ وجہ(ثمن) دی گئیں، اور کچھ نقد رقم بھی زمین کے بدلے میں دی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ: میں اپنی بکریوں کا پیسہ مؤکل (حاجی صبغت اللہ) سے تیس ہزار (30000)کی بنیاد پر لوں یا بازار کی قیمت کے حساب سے؟ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں حاجی صبغت اللہ نے جب سائل سے یہ کہا کہ "حکیم ولد احمد شاہ سے زمین میرے لیے خرید لو" تو اس میں شرعاً سائل کی حیثیت فقط وکیل کی ہے ۔ ان زمینوں کو خریدنے کی صورت میں حاجی صبغت اللہ ہی ان کا مالک شمار ہوگا۔
جبکہ سائل اور حاجی صبغت اللہ کی جانب سے زمینوں کی قیمت کی ادائیگی میں بطورِ ثمن دی جانے والی سائل کی بکریوں کی قیمت اگر حاجی صبغت اللہ کی رضامندی سے طے کی گئی تھی تو شرعاً اب حاجی صبغت اللہ پر اسی قیمت ( 30000 ) فی بکری کے حساب سے سائل کی رقم واپس کرنا لازم اور ضروری ہوگا ، اس میں مارکیٹ ویلیو کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ۔
کما فی درر الأحکام فی شرح مجلۃ الأحکام: الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقا للقيمة الحقيقية أو ناقصا عنها أو زائدا عليها اھ ( المادة: 153، ج:1، ص: 124، ناشر: دار الجیل )-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1