میں امریکہ میں رہتا ہوں اور اپنے لیے مکان خرینا چاہتا ہوں ،میں جاننا چاہتا ہوں کہ مکان کے لئے رقم کے حصول کے ذریعے مکان خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ مکانات یہاں بہت مہنگے ہیں اور نقدرقم پر نہیں خریدا جاسکتا ہے۔
مکان کے لیے سود پر قرض لینا تو جائز نہیں، البتہ قسطوں پر زیادہ قیمت میں درج ذیل شرائط کے ساتھ خریدنے کی گنجائش ہے (1) مکان اگر نقد خریدے گا تو قیمت اتنی ہوگی اور ادھار کی صورت میں قیمت اتنی ہوگی پھر اسی مجلس میں ہی یہ طے ہوجائے کہ خریدار ادھار پر ہی خریدے گا، اور دوسرے یہ طے ہوجائے کہ اس مکان کی کل قیمت اتنی ہوگی اور کل قسطیں اتنی ہونگی اور تیسرا یہ طے ہوجائے کہ ہر قسط کی رقم اتنی ہوگی اور چوتھا یہ کہ اگر کسی مجبوری وغیرہ کی وجہ سے کوئی قسط اپنے وقت سے لیٹ ہوجائے تو اس پر مزید کوئی جرمانہ بھی نہیں ہوگا، چنانچہ ایسا کرنے کی صورت میں سود سے بھی حفاظت ہوجائیگی، اور جائز طریقے سے مکان بھی حاصل ہوجائے گا۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، الخ (5/166)۔
و فی سنن الترمذی: عن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة. وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود. حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح. والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما الخ (2۔524 رقم الحدیث1231)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1