کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ !میں آسٹریلیا کے ایک چھوٹے دیہی قصبے (Quilpie, Queensland) میں مقیم مسلمان ہوں، اور ان شاء اللہ، جلد ہی وہاں موجود ایک سپرمارکیٹ (FoodWorks) کا انتظام سنبھالنے والا ہوں، اس قصبے کی کل آبادی تقریباً 700 افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے تقریباً٪ 99.9 غیر مسلم، بالخصوص سفید فام آسٹریلوی ہیں۔
یہ علاقہ ثقافتی طور پر خنزیر (بیکن، ہیم) کے گوشت کو روزمرہ خوراک کا اہم حصہ سمجھتا ہے، پچھلے غیر مسلم مالکان کئی سالوں سے یہ مصنوعات مقامی لوگوں کو فروخت کرتے رہے ہیں، اور ان اشیاء کی موجودگی ان کے لیے ایک عام بات ہے۔،اگر میں بطور مسلمان ان مصنوعات کو مکمل طور پر ختم کر دوں، تو مقامی کمیونٹی اس اقدام کو اپنی ثقافت کے خلاف سمجھ سکتی ہے، اور اس سے منفی ردِعمل یا کاروباری نقصان کا اندیشہ ہے۔
موجودہ حالات:
اسٹور میں درج ذیل خنزیر کی مصنوعات فروخت ہو رہی ہیں:
سپلائر سے آنے والی پہلے سے سیل پیک شدہ بیکن اور ہیم
ڈیلی کاؤنٹر پر کٹی ہوئی بیکن/ہیم (مشین کے ذریعے، جسے عملہ چلاتا ہے)
دیگر پیک شدہ بیکن گوشت کی مصنوعات
یہ اشیاء صرف٪ 5 کے قریب پروڈکٹ رینج کا حصہ ہیں، مگر مقامی افراد کے لیے اہم ہیں۔
میری نیت:
میری کوشش یہ ہے کہ:
مقامی کمیونٹی کی ضروریات کو سمجھداری سے نبھاؤں ،تاکہ معاشرتی نقصان یا دشمنی سے بچا جا سکے،
اور ساتھ ساتھ اپنے دین کی حدود میں رہتے ہوئے ہر ممکن حرام سے بچ سکوں۔
میری شرعی رہنمائی کے لیے سوالات:
1. خنزیر کی مصنوعات کے ساتھ سپرمارکیٹ کا مالک بننا:
کیا میرے لیے ایسے سپرمارکیٹ کا مالک بننا جائز ہے جس میں خنزیر کی مصنوعات (بیکن، ہیم) فروخت ہو رہی ہوں، جبکہ میں خود ان اشیاء کو ہاتھ نہ لگاؤں؟
کیا ان اشیاء کی خرید و فروخت، اسٹاکنگ، یا صفائی کی ذمہ داری غیر مسلم عملے کو دینا شرعاً جائز ہے؟
2. ڈیلی کاؤنٹر پر خنزیر کی کٹائی:
کیا میرے لیے یہ جائز ہوگا کہ میں ڈیلی کاؤنٹر جاری رکھوں اور غیر مسلم عملہ خنزیر کی کٹائی کرے، جبکہ میں خود اس میں شامل نہ ہوں؟
یا شرعی لحاظ سے ضروری ہے کہ ڈیلی پر بیکن/ہیم کی فروخت بالکل بند کر دی جائے؟
3. پہلے سے پیک شدہ خنزیر کی مصنوعات کی فروخت:
کیا پہلے سے پیک شدہ (sealed) بیکن یا ہیم کی فروخت شرعی طور پر جائز ہے، جبکہ میں ان کو نہ کھولوں اور نہ ہاتھ لگاؤں؟
4. حرام منافع کا صدقہ کرنا:
اگر ان اشیاء کی فروخت بند کرنا فوری ممکن نہ ہو، تو کیا اس سے حاصل ہونے والے منافع کو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دینا جائز ہے، تاکہ آمدنی "پاک" ہو جائے؟
کیا اس طریقے سے ان اشیاء کو اسٹور میں رکھنا جائز ہو سکتا ہے؟
گزارش:
میں ان سوالات میں آپ سے تفصیلی شرعی رہنمائی کا طلبگار ہوں، تاکہ میں کاروبار کو شریعت کے دائرے میں رکھ کر، مقامی معاشرتی حالات کو بھی متوازن انداز میں سنبھال سکوں۔
جزاکم اللہ خیراً و أحسن الجزاء
واضح ہوکہ خنزیر شرعا حرام اور نجس العین ہے،اس لئے اس کی خرید و فروخت ناجائز اور اس کی آمدنی مکمل طور پر حرام ہے،لہذا سائل کیلئے مذکور سپر مارکیٹ کی ملکیت لینا تو جائز ہے،لیکن مذکور عذر کی وجہ سے شراب ،خنزیر اور اس کے گوشت کی خرید و فروخت جائز نہ ہوگی،اس لئے اسے مارکیٹ لینے کے ساتھ ہی اس میں موجود تمام حرام اشیاء کو مکمل طور پر نکالنا لازم ہوگا،تاہم اگر سائل کیلئے مذکور سپر مارکیٹ میں خنزیر کا گوشت فروخت کرنا ناگزیر ہو تو اس کیلئے یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ سائل اسٹور میں فروخت کی جانے والی جانائز اشیاء کی ملکیت اور کاروبار کسی غیر مسلم کے حوالہ کر دے ،جس کی وہ اپنی ذاتی حیثیت میں خرید و فروخت کرے ،اور اس کی خرید و فروخت اور نفع ونقصان کا حساب و کتاب بالکل علیحدہ رکھنے کا اہتمام ہو،لیکن بحیثیت ایک مسلمان سائل کو بہرحال اس طرح کی حرام اشیاء کی خرید و فروخت کو اپنے کاروبار کا حصہ بنانے سے اجتناب چاہیئے۔
وفی الدر المختار: (و) بطل (بيع مال غير متقوم) أي غير مباح الانتفاع به ابن كمال فليحفظ (كخمر وخنزير وميتة لم تمت حتف أنفها)الخ(ج5 ص55 ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: واذا کان احد العوضین أو کلاھما محرّما فالبیع فاسد کالبیع بالمیتۃ والدم والخمر والخنزیر الخ (3/49)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1